مغربی کنارا : فلسطینیوں کی 500 ایکڑ اراضی پر قبضے کی نشاندہی، اسرائیلی 'واچ ڈاگ' کی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل کے ثقافتی امور میں 'واچ ڈاگ' کا کردار ادا کرنے والے ایک ادارے نے فلسطینیوں کی 500 ایکڑ زمین پر قبضے کی مذمت کی ہے۔ 'واچ ڈاگ' کے مطابق یہ زمین فلسطینیوں کی نجی ملکیت ہے۔ جسے آثار قدیمہ کے مقام سبسطیۃ کے قریب اسرائیلی قبضے میں لیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 'واچ ڈاگ' نے اسرائیل کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔

اسرائیلی 'واچ ڈاگ' کی مقامی فلسطینیوں کے ساتھ رابطے کے بعد تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے رہائشیوں کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی قبضے کے نتیجے میں فلسطینیوں کی آس پاس موجود زرعی اراضی تک رسائی بھی مشکل ہو جائے گی اور زیتون کے تقریبا 3000 درخت ضائع ہو جائیں گے۔ یاد رہے ان زیتون کے ان درختوں میں بہت سے درخت صدیوں پرانے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے تحت سول کے امور کو ڈیل کرنے والے اسرائیلی ادارے 'کوگیٹ' نے 12 نومبر کو ایک نوٹس جاری کیا تھا جس میں زمین کے مختلف ٹکڑوں کے ضبط کیے جانے کی اطلاع تھی۔ اس اراضی کے بڑے حصے کا سبسطیۃ سے تعلق ہے۔

'کوگیٹ' کی طرف سے اس قبضے کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس قدیمی جگہ کا تحفظ کرنا ہے۔ جبکہ اصل معاملہ اس اہم سیاحتی علاقے سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ اسرائیل نے اس علاقے کو قبضہ میں کرنے کے لیے 2023 سے ہی کوششیں شروع کر دی تھیں اور سب سے پہلے اس علاقے میں موجود ایک ٹیلے پر قبضہ کیا۔ اگرچہ یہ علاقہ مغربی کنارے کے 'سی ایریا' میں آتا ہے۔

1993 میں اوسلو معاہدے کے بعد اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کا تقریباً 66 فیصد حصہ اپنے زیر قبضہ کر لیا ہے۔ سبسطیۃ گاؤں سیاحتی اعتبار سے ایک اہم جگہ ہے۔ جو اب اسرائیلی منصوبہ کی وجہ سے خطرے میں پڑ جائے گا۔

اسرائیل کا ارادہ ہے کہ وہ اس علاقے کو قبضے میں کر کے اس کے اردگرد ایک باڑ لگائے گا تاکہ فلسطینی اس طرف نہ آسکیں اور بعد ازاں اس میں داخلے کے لیے ایک فیس مقرر کی جائے گی۔

'پیس ناؤ' یعنی 'اب امن' نامی ایک اسرائیلی این جی او نے بھی اسرائیل کے اس قبضے کے منصوبے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اب تک کا سب سے بڑا قطعہ اراضی ہے جسے اسرائیل آثار قدیمہ کے نام پر قبضہ میں لینا چاہتا ہے۔

'پیس ناؤ' کے مطابق مغربی کنارے میں اب تک اسرائیل نے آثار قدیمہ اور نوادرات کے نام پر 5 مرتبہ مختلف جگہوں پر قبضہ کیا ہے۔ 'پیس ناؤ' نے اپنے بیان میں مزید کہا اسرائیلی حکومت اس کا مقصد جو بھی بتا رہی ہے لیکن اصل مقصد فلسطینیوں کو اس جگہ سے محروم کرنا ہی ہے۔ اسرائیلی قبضے کے بعد فلسطینیوں کی سبسطیۃ تک رسائی مشکل بنا دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں