سعودی ولی عہد نے ٹرمپ کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کی درخواست مسترد کر دی: ایکسیس
سعودی عرب فلسطین کے حل کو اولین ترجیح دے رہا ہے:امریکی میڈیا
امریکی نیوز ویب سائٹ "اکسیس" نے اطلاع دی ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد، وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی سعودی-امریکی اعلیٰ سطحی ملاقات میں واشنگٹن کی خواہش یہ تھی کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں میں شامل ہو جائے، تاہم شہزادہ محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ کی " نارملائزیشن" کی درخواست کو مسترد کر دیا۔
اکسئیس کے مطابق سعودی ولی عہد نے ملاقات کے دوران اپنے سعودی عرب کے فلسطین کے حوالے سے پختہ موقف کو دہرایا اور کہا کہ فلسطین سعودی خارجہ پالیسی میں اولین ترجیح رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کے ساتھ کوئی بھی تعلق یا ’نارملازئزیشن‘ صرف اس وقت ممکن ہے جب اسرائیل دو ریاستی حل کو تسلیم کرے اور سنہ 1967ء کی سرحدوں میں ایک فلسطینی ریاست قائم کرے، جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔
مسؤولان أميركيان لأكسيوس:
— العربية (@AlArabiya) November 26, 2025
• اجتماع ترمب مع ولي العهد السعودي بواشنطن شهد توترا بسبب #إسرائيل
• ولي العهد السعودي رفض طلبا من #ترمب للانضمام إلى اتفاقيات السلام
• ولي العهد السعودي تعامل بقوة مع طلب ترمب وتمسك بموقفه
• ولي العهد السعودي أكد لترمب ألا حديث عن تطبيع دون موافقة… pic.twitter.com/zRGdj4nwUV
اکسیس نے لکھا کہ ولی عہد نے صدر ٹرمپ کی درخواست کے سامنے مضبوط موقف اپنایا اور اس پر قائم رہے۔ امریکی حکام نے بھی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو "طاقتور شخصیت" قرار دیا۔
سعودی عرب کے ولی عہد نے واشنگٹن کا ایک سرکاری دورہ کیا، جو سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر صدر ٹرمپ کی دعوت پر ہوا۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے 18 نومبر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی، جس کا استقبال خصوصی طور پر کیا گیا۔
ملاقات کے بعد ولی عہد نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران مشرق وسطیٰ کے تنازع پر سعودی عرب کی پالیسی کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل، فلسطینی اور پورے خطے کے ساتھ امن چاہتا ہے اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے ایک واضح منصوبہ تیار کر رہا ہے، جو دو ریاستی حل کی سمت میں حقیقی پیش رفت فراہم کرے گا۔
سعودی عرب اس بات پر زور دیتا ہے کہ ایک منصفانہ حل حاصل کیا جائے جو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے شروع ہو اور خطے میں پائیدار اور جامع امن قائم کرے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ امن کے قیام اور بات چیت کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے تمام سطحوں پر پرامن حل کو فروغ دیا ہے۔