لبنانی وزیر خارجہ یوسف رجی نے ایرانی سپریم لیڈر کے بین الاقوامی امور کے مشیر علی اکبر ولایتی کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ لبنان کی خودمختاری اور اس کے اندرونی فیصلے کی آزادی روٹی اور پانی سے زیادہ اہم ہے۔
یوسف رجی نے ’’ ایکس' ‘‘پر پوسٹ میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ یقین کرنا چاہتے تھے کہ ایران لبنانی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر نے لبنانیوں کو حزب اللہ کے ہتھیاروں کی تخفیف کے نتائج سے خبردار کر دیا۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ لبنانیوں کے لیے جو چیز زیادہ اہم ہے وہ ان کی خودمختاری، ان کی آزادی اور ان کے اندرونی فیصلے کی آزادی ہے جو نظریاتی نعروں اور سرحدوں سے پار علاقائی سیاق و سباق سے دور ہے جنہوں نے لبنان کو تباہ کیا ہے اور اب بھی اسے تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ واضح رہے ایرانی سپریم لیڈر کے بین الاقوامی امور کے مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا تھا کہ لبنان کے لیے آج حزب اللہ کا وجود ناگزیر ہے۔
علی اکبر ولایتی نے بیان میں مزید کہا کہ اسرائیلی جارحیت اور لبنان کے خلاف مسلسل جرائم یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حزب اللہ کا وجود روزانہ کی روٹی اور پانی سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
دہشت پھیلانا
علی اکبر نے مزید کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پابندی نہیں کی جو ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی قانون کی پابندی نہیں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند دن قبل بیروت کے جنوبی نواحی علاقے میں حزب اللہ کے ایک اہم رہنما ہیثم علی طبطبائی کا قتل لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل لبنانیوں میں دہشت پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن لبنان نے ان کارروائیوں کے سامنے اپنی استقامت ثابت کی ہے۔
علی اکبر ولایتی نے کہا کہ اسرائیلی خلاف ورزیوں نے لبنان کے لیے حزب اللہ کے ہتھیاروں کی تخفیف کے تباہ کن نتائج سب کے سامنے ظاہر کر دیے ہیں۔ ایران نے حزب اللہ کی حمایت کی ہے اور وہ یہ حمایت جاری رکھے گا۔
کاٹس کی تنبیہ
یہ بیانات اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کی اس تنبیہ کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئے کہ اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت نہ ہونے اور حزب اللہ کے ہتھیار حوالے نہ کیے جانے کی صورت میں لبنان میں امن نہیں ہو گا۔ کاٹز نے ایک بار پھر حزب اللہ کے ہتھیاروں کی تخفیف کے اسرائیل کے عزم کی تصدیق کی۔ واضح رہے لبنانی حکومت نے گزشتہ اگست میں ہتھیار کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کا ایک منصوبہ منظور کیا تھا اور فوج کو اس پر عمل درآمد کا کام سونپا تھا۔
بعد میں لبنانی حکومت نے اعلان کیا کہ فوج جنوب میں اپنی تعیناتی کو بڑھا رہی ہے اور ہتھیار کو ریاست کے کنٹرول میں محدود کرنے کا عمل جاری ہے۔ نومبر 2024 میں امریکہ اور فرانس کی ثالثی سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں فریقین کے درمیان جنگ بندی، جنوب میں لبنانی فوج کی تعیناتی، حزب اللہ کا دریائے لیطانی کے شمال میں انخلاء اور اس کے ہتھیاروں کی تخفیف کی بات کی گئی تھی۔ معاہدے میں یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج لبنان کے جنوب میں مقبوضہ علاقوں سے انخلا کر لے گی۔
تاہم اسرائیل نے جنوب میں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے عناصر اور ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اسرائیل نے لبنان کی سرحدوں کے اندر پانچ سے زیادہ مقامات سے انخلا سے بھی انکار کر دیا ہے۔