حزب اللہ کے ہتھیار اس کے رہنماؤں کو بچا سکے نہ لبنانیوں کو : لبنانی وزیرا عظم
لبنان اسلحہ کو محدود کرنے اور ریاستی اقتدار اور خودمختاری کو نافذ کرنے کے معاملے میں پیچھے ہے: نواف سلام
لبنانی حکومت کے سربراہ نواف سلام نے کہا ہے کہ حزب اللہ کا ہتھیار نہ تو پارٹی کے رہنماؤں کو اور نہ ہی لبنانیوں اور ان کی املاک کو بچا سکا ہے۔ یہ ہتھیار نہ روکنے والا ہے، نہ تحفظ دینے والا اور نہ ہی غزہ کی فتح کا سبب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبنان یک طرفہ تھکا دینے والی جنگ میں ہے اور یہ بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمیں یہ بتانے کے لیے عرب اور غیر ملکی نمائندوں کی ضرورت نہیں ہے کہ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ اس کے باوجود صورتحال کو مکمل طور پر تاریک قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ملک میں دیگر چیزیں بھی ہو رہی ہیں جو اعتماد کی بحالی کے آغاز کی نشاندہی کرتی ہیں۔
نواف سلام نے ’’ پریس کلب کی انتظامی کمیٹی ‘‘ کے ایک وفد کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہی اسلحے کو محدود کرنے کے عمل کے لیے ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ پہلے مرحلے کو سال کے آخر تک مکمل ہونا ہے جس میں دریائے لیطانی کے جنوب کا علاقہ شامل ہے جہاں سے اسلحہ اور فوجی ڈھانچے کو ہٹایا جانا چاہیے۔ جہاں تک لیطانی کے شمال کا تعلق ہے اس مرحلے میں اسلحہ کو قابو میں رکھنے کا اصول لاگو ہونا چاہیے۔ یعنی اس کی نقل و حمل اور استعمال کو روکنا ہے تاکہ بعد میں مختلف علاقوں میں اسلحے کو محدود کرنے کے دوسرے مراحل کی طرف بڑھا جا سکے۔
نواف سلام نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان اسلحہ کو محدود کرنے اور ریاستی اقتدار اور خودمختاری کو نافذ کرنے کے معاملے میں پیچھے ہے ۔ یہ وہی بات ہے جو طائف معاہدے میں طے پائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت نے جنوب کی آزادی میں کردار ادا کیا تھا اور حزب اللہ کا اس میں بنیادی کردار تھا۔ حکومتی سربراہ نے حزب اللہ کے اس کے اسلحے سے متعلق بیانیے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ پارٹی کہتی ہے کہ اس کا ہتھیار حملے کو روکتا ہے اور روکنے کا مطلب ہے دشمن کو حملہ کرنے سے باز رکھنا لیکن دشمن نے حملہ کیا اور ہتھیار اسے روک نہیں سکا۔ مزید برآں اس ہتھیار نے نہ تو پارٹی کے رہنماؤں کو اور نہ ہی لبنانیوں اور ان کی املاک کو تحفظ فراہم کیا۔ اس کا ثبوت درجنوں گاؤں ہیں جو مٹا دیے گئے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا حزب اللہ کا ہتھیار فی الحال جاری اسرائیلی حملوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہتھیار نہ تو روکنے والا ہے، نہ تحفظ دینے والا اور نہ ہی غزہ کی فتح کا سبب ہے۔ ہم نے 2006 میں قرارداد 1701 کو نافذ نہیں کیا اور یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ دشمنی کے خاتمے کے معاہدے کا تعارف ان 6 فریقوں کی نشاندہی کرتا ہے جنہیں اسلحہ رکھنے کا حق حاصل ہے۔
علی خامنہ ای کے مشیر کے بیان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں صدر نواف سلام نے کہا کہ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ہے اور ان کے لیے اب جو چیز اہم ہے وہ معیشت ہے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے معاشی سرگرمی کا آغاز ہے۔ اس تناظر میں مالیاتی خلا سے متعلق قانون کو مکمل کرنا اور ذخائر کی واپسی کے لیے بینکوں کی صورتحال کو ٹھیک کرنا ضروری ہے۔ ایرانی میڈیا نے ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج لبنان کے لیے حزب اللہ کی موجودگی ناگزیر ہے۔
علی اکبر ولایتی نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان کے خلاف مسلسل جارحیت اور جرائم ظاہر کرتے ہیں کہ لبنان کے لیے حزب اللہ کی موجودگی روزمرہ کی روٹی سے بھی زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی اور اس کی بار بار کی خلاف ورزیاں اور لبنان پر نئے حملے ایک بار پھر ثابت کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی قانون کی پابندی نہیں کرتا۔