سعودی عرب : عوامی رائے بھڑکانے والا مواد شائع کرنے پر 6 افراد پبلک پراسیکیوشن کے حوالے

ایک عہدے دار نے "العربیہ" کو بتایا کہ "ہم نے ایسی منظم پوسٹوں کی نگرانی کی جو معاشرتی امن کے لیے خطرہ ہیں".

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب میں 'جنرل اتھارٹی آف میڈیا ریگولیشن' نے بتایا ہے کہ اس نے چھ افراد کو شناخت کیا ہے جو منظم انداز میں ایسا معلوماتی مواد نشر کر رہے تھے جس کا مقصد عوامی رائے کو بھڑکانا تھا۔ ادارے کے مطابق ان افراد کو حراست میں لے کر پبلک پراسیکیوشن کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ انھیں متعلقہ عدالت میں پیش کیا جا سکے اور ان کے خلاف مؤثر قانونی سزاؤں کا مطالبہ کیا جائے۔

اتھارٹی کے مطابق عوامی جذبات کو بھڑکانے والا مواد نشر کرنا سعودی سائبر کرائم قانون کے آرٹیکل 6 کی شق (1) کے تحت جرم ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ "جو شخص ایسا مواد تیار کرے، نشر کرے، بھیجے یا محفوظ کرے جو عوامی نظم، مذہبی اقدار، عمومی اخلاق یا نجی زندگی کی حرمت کو متاثر کرے تو اسے پانچ سال تک قید یا تیس لاکھ ریال تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔"

اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے جنرل اتھارٹی آف میڈیا ریگولیشن کے نائب صدر حسن السلمی نے "العربیہ" سے گفتگو میں کہا کہ ادارے نے اس قسم کی منظم پوسٹوں کو بہت خطرناک سمجھا ہے، کیونکہ یہ معاشرتی امن کے لیے دھمکی اور ریاستی اداروں اور پالیسیوں کے خلاف بھڑکانے کی صورت اختیار کر رہی تھیں ... جو نہ صرف آزادی اظہار کے خلاف ہیں بلکہ ملکی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔

اتھارٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایسے تمام میڈیا مواد کے حوالے سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتے گی جو عوامی نظم کو متاثر کرے یا میڈیا کے لیے وضع کردہ قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بنے۔ ساتھ باور کرایا گیا کہ ہر خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں