سعودی عرب : عوامی رائے بھڑکانے والا مواد شائع کرنے پر 6 افراد پبلک پراسیکیوشن کے حوالے
ایک عہدے دار نے "العربیہ" کو بتایا کہ "ہم نے ایسی منظم پوسٹوں کی نگرانی کی جو معاشرتی امن کے لیے خطرہ ہیں".
سعودی عرب میں 'جنرل اتھارٹی آف میڈیا ریگولیشن' نے بتایا ہے کہ اس نے چھ افراد کو شناخت کیا ہے جو منظم انداز میں ایسا معلوماتی مواد نشر کر رہے تھے جس کا مقصد عوامی رائے کو بھڑکانا تھا۔ ادارے کے مطابق ان افراد کو حراست میں لے کر پبلک پراسیکیوشن کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ انھیں متعلقہ عدالت میں پیش کیا جا سکے اور ان کے خلاف مؤثر قانونی سزاؤں کا مطالبہ کیا جائے۔
اتھارٹی کے مطابق عوامی جذبات کو بھڑکانے والا مواد نشر کرنا سعودی سائبر کرائم قانون کے آرٹیکل 6 کی شق (1) کے تحت جرم ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ "جو شخص ایسا مواد تیار کرے، نشر کرے، بھیجے یا محفوظ کرے جو عوامی نظم، مذہبی اقدار، عمومی اخلاق یا نجی زندگی کی حرمت کو متاثر کرے تو اسے پانچ سال تک قید یا تیس لاکھ ریال تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔"
#نشرة_الرابعة | نائب الرئيس التنفيذي بالهيئة العامة لتنظيم الإعلام حسن السلمي: لاحظنا خطورة ما قام به بعض الأشخاص من خلال بث منشورات ممنهجة شكلت تهديدا لأمن المجتمع وممارسة التحريض والتأجيج ضد مؤسسات وسياسات الدولة وهو ما ينافي حرية التعبير كما يعد مخالفا للأنظمة pic.twitter.com/G2KFVzdJhF
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) November 27, 2025
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے جنرل اتھارٹی آف میڈیا ریگولیشن کے نائب صدر حسن السلمی نے "العربیہ" سے گفتگو میں کہا کہ ادارے نے اس قسم کی منظم پوسٹوں کو بہت خطرناک سمجھا ہے، کیونکہ یہ معاشرتی امن کے لیے دھمکی اور ریاستی اداروں اور پالیسیوں کے خلاف بھڑکانے کی صورت اختیار کر رہی تھیں ... جو نہ صرف آزادی اظہار کے خلاف ہیں بلکہ ملکی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔
اتھارٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایسے تمام میڈیا مواد کے حوالے سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتے گی جو عوامی نظم کو متاثر کرے یا میڈیا کے لیے وضع کردہ قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بنے۔ ساتھ باور کرایا گیا کہ ہر خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔