لبنان پر اسرائیل کا فضائی حملہ، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں مشکل ہے: امریکی ایلچی

حزب اللہ نے لبنان میں جنگ بندی کے ایک سال کے دوران بھی اپنے ہتھیار نہیں ڈالے ہیں: صہیونی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق دو حملوں نے ملک کے جنوب میں نبع الطاسہ اور الجرمق- المحمودی کے علاقے کو بیک وقت نشانہ بنایا۔ سفارتی محاذ پر ترکیہ میں امریکی سفیر اور شام کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی ٹام براک نے اعلان کیا ہے کہ لبنانی فوج کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ فنڈز کی کمی اور اس کے اہلکاروں کی کم تنخواہیں بھی ہیں۔

ٹام براک نے اخبار ’’ نیویارک ٹائمز ‘‘ کو بتایا کہ وہ لبنانی فوج کی جانب سے اس سال کے آخر تک حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے اپنے اعلان کردہ ہدف کو حاصل کرنے کی صلاحیت پر شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔ تاہم امریکی ایلچی نے کہا کہ لبنان کے اندر اور اسرائیل کے ساتھ اس کی سرحدوں پر صورتحال کو مستحکم کرنے کے لحاظ سے اس راستے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

لبنانی وزیر خزانہ یاسین جابر نے ’’ نیویارک ٹائمز ‘‘ کو بتایا ہے کہ اس سال کے آخر تک غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے وسائل سے محروم فوج سے معجزات کی توقع نہ رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ اسرائیلی فوج کے اقدامات لبنانی فوج کی کوششوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ حکومت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے لبنانی فوج کو اس سال کے آخر تک حزب اللہ سمیت تمام نیم فوجی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ نافذ کر دینا چاہیے۔ 20 اکتوبر کو ٹام براک نے لبنانی حکومت سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ لبنانی حکام کی طرف سے غفلت اسرائیل کو یکطرفہ کارروائی کرنے پر مجبور کر سکتی ہے جو ایک نئی محاذ آرائی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

اسی تناظر میں اسرائیلی فوج کے ترجمان نداف شوشانی نے کہا ہے کہ لبنان میں ایک سال قبل جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے حزب اللہ نے نہ تو اپنے ہتھیار ڈالے ہیں اور نہ ہی اپنے فوجی ڈھانچے کو ختم کیا ہے۔ شوشانی نے ’’ ایکس ‘‘پر لکھا کہ ٹھیک ایک سال پہلے، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح ہونا چاہیے تھا اور اپنے فوجی ڈھانچے کو ختم کر دینا چاہیے تھا لیکن دونوں میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بجائے حزب اللہ نے ایرانی حکومت کی حمایت سے ایک سال خود کو دوبارہ بنانے اور مسلح کرنے میں صرف کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک حزب اللہ اسرائیل کے لیے خطرہ ہے، ہم اپنا دفاع کرنے کے لیے ہر ضروری کام کرتے رہیں گے۔ امریکہ اور فرانس نے 27 نومبر 2024 کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 66 دن کی لڑائی کے بعد لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے پر ثالثی کی تھی۔ اس معاہدے میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی مدد سے لبنانی فوج کو جنوبی سرحد پر تعینات کرنے اور حزب اللہ کی افواج کو لبنانی علاقے کے اندر دریائے لیطانی کے پیچھے ہٹانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں