اسرائیل نے شامی فوج کو خبردار کر دیا کہ وہ اس کے فوجیوں پر حملہ نہ کرے

اسرائیل کی جانب سے گرفتاریوں کی کارروائیوں میں کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل فوج کی جانب سے شام کے مختلف علاقوں میں سرحدی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جمعے کے روز بھی جاری رہا۔ اس دوران شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے پر ایک سال گزرنے کی خوشیاں منائی جا رہی تھیں۔

شامی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج درعا کے علاقے حوض الیرموک میں داخل ہو گئی اور قنیطرہ کے گاؤں الحمیدیہ میں شہریوں پر فائرنگ کی۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا" کے مطابق اسرائیلی فوج نے قنیطرہ میں منعقد ایک عوامی تقریب میں شہریوں کو نشانہ بنایا لیکن کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

مزید بتایا گیا کہ شہریوں کو تقریب کے بعد اپنے گاؤں میں واپس جانے سے آدھے گھنٹے کے لیے روکا گیا۔

اسرائیلی حملوں کے خلاف ہزاروں شامی شہریوں نے جمعے کی نماز کے بعد مرکزی چوراہوں میں جمع ہو کر مظاہرے کیے۔ انھوں نے شام کی وحدت کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کیا۔

مظاہرین نے بیت جن پر فضائی حملوں کی مذمت کی جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔

جمعے کی صبح اسرائیلی فوج نے دمشق کے دیہی علاقے میں بیت جن قصبے پر فضائی حملہ کیا، اس دوران ایک فوجی گشتی دستہ بھی قصبے میں داخل ہوا۔

اسرائیلی ہیلی کاپٹر اور توپ خانے نے قصبے کو بم باری کا نشانہ بنایا جو جبل الشیخ کے پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔

رپورٹوں کے مطابق شہریوں اور اسرائیلی فوجی دستے کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران فوج نے 3 نوجوانوں کو گرفتار کیا اور پھر "باط الوردہ" کے ٹیلے پر پوزیشن سنبھال لی۔

بیت جن کے شہریوں نے حملے کے بعد قریبی دیہات کی طرف نقل مکانی شروع کر دی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اضافی بریگیڈ 55 اور 210 ڈویژن کی قیادت میں رات بھر بیت جن میں مطلوب افراد کی گرفتاری کی کارروائی کی گئی۔

انٹیلی جنس معلومات کے مطابق کارروائی کے دوران اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ کی گئی، جس پر انھوں نے فضائی مدد کے ساتھ جواب دیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں دو افسران اور ایک ریزرو فوجی شدید زخمی اور تین دیگر فوجی معمولی زخمی ہوئے۔

تمام مطلوب افراد کو گرفتار کر لیا گیا اور کچھ مسلح افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں