اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کے سامنے معافی کی با ضابطہ درخواست جمع کروانے کے بعد، اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس قدم کے پیچھے محرکات کی وضاحت کی ہے۔
اتوار کو جاری ایک وڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ "اسرائیل عظیم چیلنجوں کے ساتھ ساتھ بڑے مواقع کے دہانے پر کھڑا ہے" اور ان کے مطابق "ان خطرات کا مقابلہ کرنے اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے قومی اتحاد ضروری ہے"۔
انھوں نے مزید کہا کہ "اس مقدمے کا جاری رہنا ملک کو اندر سے چیر رہا ہے، گہرے اختلافات پیدا کر رہا ہے اور تقسیم کو بڑھا رہا ہے"۔ نیتن یاہو نے کہ اکہ "مجھے یقین ہے اور بہت سے دیگر بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر اس مقدمے کو فوری طور پر ختم کر دیا جائے تو کشیدگی کم ہوگی اور وہ وسیع مفاہمت مضبوط ہوگی جس کی ہماری ریاست کو سخت ضرورت ہے"۔
انہوں نے بتایا کہ وہ معافی کی درخواست دینے کے فیصلے پر بہت مدت تک تذبذب کا شکار رہے، مگر "حالیہ واقعات نے فیصلہ کرنے میں توازن بدل دیا"۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مقدمے کو سننے والے ججوں کے نتیجے میں ان سے ہفتے میں تین بار عدالت میں گواہی دینے کا کہا گیا ہے جسے انہوں نے "نا ممکن مطالبہ قرار دیا جو اسرائیل میں کسی اور شہری پر نہیں ڈالا جاتا"۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے فیصلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ بار بار کی جانے والی اپیلیں بھی ملحوظ رکھی ہیں جو وہ اسرائیلی صدر سے کر رہے تھے۔
نیتن یاہو کے مطابق "ٹرمپ نے مقدمہ فوراً ختم کرنے کی اپیل کی تاکہ وہ اور اسرائیلی وزیرِاعظم دونوں ممالک کے اہم مشترکہ مفادات کو آگے بڑھا سکیں، ایک ایسی مختصر مدت کے اندر جو شاید دوبارہ نہ ملے"۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ "انہی وجوہات کی بنا پر آج میرے وکلاء نے اسرائیلی صدر کے سامنے معافی کی درخواست جمع کر دی ہے"۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ عموماً ملزم کے اعتراف کے بغیر صدر کے لیے معافی دینا ممکن نہیں ہوتا، الاّ یہ کہ کوئی غیر معمولی اور ڈرامائی صورت حال عدالتی طور پر ثابت ہو جائے۔
اسی دوران اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاتز نے اس فیصلے کی حمایت کی اور ہرزوگ پر زور دیا کہ وہ اس درخواست کو قبول کریں۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسرائیلی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا "آپ نیتن یاہو کو اس وقت تک معافی نہیں دے سکتے جب تک وہ اپنا جرم قبول نہ کرے اور سیاسی زندگی سے الگ نہ ہو جائے۔"
دو ہفتے قبل اسرائیلی صدر کے دفتر نے بتایا تھا کہ ہرزوگ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خط موصول ہوا تھا جس میں انہوں نے نیتن یاہو کو معافی دینے پر غور کرنے کی درخواست کی تھی۔
روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے اپنے خط میں کہا تھا کہ نیتن یاہو کے خلاف مقدمات "سیاسی اور بے بنیاد" ہیں۔
یاد رہے کہ نیتن یاہو کے خلاف تین کرپشن کیسز زیرِسماعت ہیں، جن میں سے ایک میں ان پر کاروباری شخصیات سے تقریباً 700 ہزار شیکَل (تقریباً 210 ہزار ڈالر) مالیت کے تحائف وصول کرنے کا الزام ہے۔
اس کے باوجود 2020 میں شروع ہونے والا یہ طویل مقدمہ اب تک کسی فیصلے تک نہیں پہنچا، اور غزہ کی پٹی میں دو سالہ جنگ کے دوران کئی مرتبہ روکنا بھی پڑا۔ نیتن یاہو اپنی بے گناہی پر قائم ہیں اور کسی بھی غلط عمل کی تردید کرتے رہے ہیں۔
-
سعودی عرب اور مصر نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کونسل کی رکنیت حاصل کر لی
سعودی عرب دس بڑی مرکزی بندرگاہیں چلا رہا ہے جن میں 290 سے زیادہ لنگر گاہیں شامل ...
مشرق وسطی -
اسرائیل میں بنجمن نیتن یاھو اور یسرائیل کاٹز کے رویے پر سوالات کیوں اٹھنے لگے ہیں؟
گذشتہ دنوں سامنے آنے والے انکشافات میں اسرائیلی آرمی چیف ایال زامیر، وزیر دفاع ...
بين الاقوامى -
نیتن یاہو نے با ضابطہ طور پر صدر کو معافی کی درخواست جمع کرا دی
عام طور پر ملزم کے اعتراف کے بغیر صدر کے لیے معافی دینا ممکن نہیں ہوتا، الاّ یہ کہ ...
مشرق وسطی