ریاض کے ساتھ شراکت کو اسٹریٹجک سطح تک لے جانا چاہتے ہیں:ڈچ وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

ہالینڈ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ فان فیل نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں کہا ہے کہ ان کا ملک ریاض کے ساتھ شراکت کو مزید گہرا کرنے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ تعلقات کو ایسی اسٹریٹجک سطح تک پہنچایا جائے جو سعودی ویژن سنہ 2030ء کے اہداف سے ہم آہنگ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہالینڈ سعودی عرب کو عالمی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والی جیو پولیٹیکل قوت اور خطے میں امن و استحکام کا اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعاون میں بھی اضافہ کرے گا۔ ان کے مطابق ہالینڈ کی وزیر تجارت و ترقی اوکے ڈی فریس آئندہ دنوں میں ایک بڑے تجارتی وفد کے ساتھ ریاض کا دورہ کریں گی، جہاں دونوں ملک تجارتی شراکت کے فروغ کے امکانات پر بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے سے نمایاں سرمایہ کاری کے مواقع کھلیں گے۔

وزیر خارجہ فان فیل نے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی تاریخ ایک صدی سے زائد پر محیط ہے اور اس کی ابتدا سنہ 1872ء میں جدہ میں پہلے ڈچ قونصل خانے کے قیام سے ہوئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملک توانائی، زرعی ٹیکنالوجی، کاربن فری عمارتوں، تفریحی صنعت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سفارت کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں تاکہ خطے کے استحکام میں کردار ادا کیا جا سکے۔

فان فیل نے گذشتہ اکتوبر کے آخر میں سعودی عرب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کی۔ اس دوران دوطرفہ تعلقات، مشترکہ تعاون اور علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر نے اس دورے کو ’’انتہائی سود مند‘‘ قرار دیا۔

ہالینڈ کا سعودی کردار پر اعتماد

سعودی عرب اور ہالینڈ کے درمیان سیاسی مشاورت کے پانچ دور مکمل ہو چکے ہیں، جن میں تازہ ترین دور گذشتہ اپریل میں ہوا۔ دونوں ملکوں نے دوطرفہ تعاون کے فروغ اور علاقائی و عالمی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی۔ فان فیل نے ان مشاورتی نشستوں کو ’’ثمر آور‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ’’ہم سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کا احترام اور حمایت کرتے ہیں کیونکہ ریاض دو ریاستی حل کو خطے اور عالمی برادری کی اخلاقی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ یہ واحد حل ہے جو مستقل امن کی ضمانت دے سکتا ہے‘‘۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ان کا ملک خطے کے امن کے لیے سعودی عرب کے وسیع کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے خصوصاً یوکرین بحران کے حوالے سے امریکہ، روس اور یوکرین کو ایک میز پر لانے کے لیے سعودی کوششوں کو۔

سعودی عرب، ڈچ تجارت کا سب سے بڑا خلیجی شراکت دار

اقتصادی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم رواں سال 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ فان فیل کے مطابق سعودی عرب خلیجی خطے میں ہالینڈ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ اقتصادی شراکت چار شعبوں پر مرکوز ہے: توانائی کی تجدید، توانائی کی منتقلی، ری سائیکلنگ پر مبنی معیشت، پائیدار خوراک کی پیداوار اور ڈیجیٹائزیشن۔ یہ تمام شعبے سعودی ویژن سنہ 2030 سے ہم آہنگ ہیں۔

ڈچ وزیر نے بتایا کہ اس وقت سعودی عرب میں سو سے زائد ڈچ کمپنیاں سرگرم ہیں۔ دوسری جانب سعودی کمپنیوں ارمکو اور سابک نے ہالینڈ میں ساڑھے تین ہزار سے زیادہ ملازمتیں فراہم کر رکھی ہیں جنہیں ہالینڈ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

خلیجی خطے کے ساتھ ہالینڈ کے مجموعی تجارتی حجم کا تخمینہ 30 ارب ڈالر لگایا جاتا ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق ہالینڈ خلیجی ممالک سے سب سے زیادہ معدنی ایندھن درآمد کرتا ہے جبکہ وہ خلیجی ریاستوں کو ماحول دوست ٹیکنالوجی، پانی سے متعلق آلات، پائیدار توانائی اور صنعتی مشینری فراہم کرتا ہے۔

علاقائی استحکام کی اہمیت

یورپی یونین اور خلیجی ممالک کے درمیان سیاسی و سکیورٹی تعاون کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’دونوں فریقوں کا مشترکہ مفاد خطے کے استحکام میں ہے کیونکہ آج دنیا جیو پولیٹیکل تبدیلیوں سے گزر رہی ہے‘‘۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس خطے کے امن، سمندری تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ تعاون ناگزیر ہے‘‘۔

غزہ کے لیے انسانی تعاون

فان فیل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ہالینڈ امریکہ کی قیادت میں قائم سول ملٹری کوآرڈی نیشن سینٹر کے لیے انسانی تعاون فراہم کرے گا۔ یہ مرکز غزہ کے لیے امداد کے ساتھ ساتھ جنگ بندی کی نگرانی بھی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہالینڈ مستقبل میں بھی اس مرکز کے لیے مزید تعاون پر غور کرے گا جو اسرائیل کے شہر کریات جات میں قائم ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ملک غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے نفاذ میں تعاون کا بہترین طریقہ کار تلاش کر رہا ہے۔ فان فیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن منصوبے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ خطے میں امن کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

فلسطینی ریاست اور حماس کے بارے میں موقف

فان فیل نے کہا کہ ’’غزہ کی جنگ نے دنیا بھر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر بحث کو تیز کر دیا ہے‘‘۔ انہوں نے زور دیا کہ ’’حماس کو اپنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کے سیاسی ڈھانچے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے‘‘۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی پر بھی ضروری اصلاحات کی اہمیت واضح کی۔

ٹرمپ کے مجوزہ جنگ بندی منصوبہ جسے دس اکتوبر 2025ء کو نافذ ہوا کے مطابق غزہ سے ہتھیاروں کا خاتمہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ جنگ میں اب تک اسرائیلی فائرنگ سے تقریباً 70 ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

سوڈان کی صورتحال

فان فیل کے مطابق ’’سوڈان اس وقت دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران جھیل رہا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’لاکھوں افراد ملک کے اندر بے گھر ہو رہے ہیں یا بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’فوری جنگ بندی ناگزیر ہے خصوصاً فاشر اور دارفور سمیت پورے ملک میں‘‘۔ انہوں نے شہریوں کے تحفظ اور امداد کی فراہمی کو بھی لازمی قرار دیا۔

یوکرین جنگ اور امریکی امن منصوبہ

فان فیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن پلان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیف نے موجودہ محاذوں پر جنگ بندی کی تجویز قبول کر کے مذاکرات میں مثبت کردار ادا کیا ہے‘‘۔ انہوں نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ مذاکرات میں پیش رفت کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں