لبنانی فوج کے 30% اہل کار حزب اللہ کے اراکین ہیں : ایرانی ماہر

ایرانی ماہر نے ایران سے باہر بسیج ماڈل کے پھیلاؤ سے متعلق تفصیلی بیانیہ پیش کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران میں امام صادق یونیورسٹی کے ایک دانشور ڈاکٹر حسین محمدی سیرت نے ملک سے باہر 'بسیج' کے ماڈل کے پھیلاؤ کے بارے میں ایک تفصیلی گفتگو کی ہے۔

ایک انٹرنیٹ ریڈیو (ریڈیو نگار) کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا ہے کہ لبنانی فوج کے تقریباً 30 فی صد اہل کار حزب اللہ کے اراکین ہیں۔ سیرت کے مطابق "وہ صبح لبنانی فوج کی وردی پہنتے ہیں اور شام کو حزب اللہ میں شامل ہو جاتے ہیں"۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک ایسے تنظیمی ماڈل کی عکاسی کرتا ہے جو ایرانی بسیج فورس سے قریب ہے۔ ان کے مطابق حزب اللہ کا انتظامی ڈھانچہ، اور اسی طرح عراق میں نام نہاد “محورِ مزاحمت” سے وابستہ گروہ ... یہ بسیج کے ماڈل سے مشابہ ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عراق میں الحشد الشعبی اور اس سے متعلق کچھ مسلح گروہ بھی بسیج کے طرز پر کام کرتے ہیں، جب کہ یمن میں حوثیوں کا جنگی انداز بھی بسیج کے قریب ہے۔

ان کے مطابق اس باہمی ربط سے ظاہر ہوتا ہے کہ “گروہانِ مزاحمت” اور بسیج ایک دوسرے میں مدغم ہو چکے ہیں اور بسیج ابتدا سے ہی “مزاحمت کے ماڈل کو عالمی سطح پر پھیلانے کا طریقہ کار اور تکنیک” رہی ہے۔

بسیج کیا ہے؟

ایران میں بسیج ایک وسیع نیٹ ورک رکھنے والا ادارہ ہے جو صرف ایک نیم فوجی قوت نہیں بلکہ اس سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔

عراق - ایران جنگ کے دوران اس نے پاسدارانِ انقلاب کے ماتحت رضاکارانہ یونٹوں کے ذریعے براہ راست کردار ادا کیا اور ملکی و بیرونی میدانِ عمل میں اسے دیے گئے مختلف مشن پورے کیے۔

ایران کے اندر بسیج کا اثر سرکاری اداروں، اسکولوں اور یونیورسٹیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ منظم نیٹ ورکس کے ذریعے تعلیمی، انتظامی اور طلبہ سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں اور ریاست کے سرکاری بیانیے کو مضبوط بناتے ہیں۔

مظاہروں کے وقت بسیج کی فورسز اندرونی دباؤ اور احتجاج پر قابو پانے کے لیے تعینات کی جاتی ہیں، جس سے یہ ایران میں عوامی فضا کو کنٹرول کرنے اور سیکیورٹی کے نکتے سے احتجاج کو سنبھالنے کا اہم ترین ذریعہ بن چکا ہے۔

انٹرویو میں ڈاکٹر محمدی سیرت نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے حالیہ خطاب کے اہم نکات پر بھی بات کی، جو اسرائیل کے خلاف ایرانی مسلح افواج کے ردّ عمل کے تناظر میں تھا۔

ان نکات میں رہبرِ اعلیٰ کی بسیج کے تصور سے متعلق تشریحات پر بھی توجہ دی گئی۔

ایرانی ماہر کے مطابق یہ تشریح “بسیج کے تصور کی ایک نئی یا مختلف تعبیر” ہے۔ انہوں نے کہا کہ بسیج کے تصور کو “مزاحمت کے تصور سے جوڑ دینا” اب ایک عملی حقیقت بن چکا ہے۔

آخر میں انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کے زیر انتظام بسیج کی حزب اللہ، الحشد الشعبی اور یمن کے حوثیوں کے ساتھ اس طرزِ عمل اور کردار کی مشابہت دراصل “ایک نئی روایت” کی تشکیل کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں