بشار الاسد اقتدار کے خاتمے کا سال مکمل

'العربیہ' نے عوام کا مذاق اڑانے والے بشار الاسد کی ویڈیو جاری کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

'العربیہ ٹی وی' نے شام کے سابق حکمران بشار الاسد کی ایکسکلوزیو ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ اپنی سابق مشیر کے ساتھ موجود ہیں اور نجی طور پر شامی عوام پر تنقید کرتے ہوئے ان کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ شام میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو کھانے کے لیے کچھ نہ ہونے کے باوجود مسجدیں بنانے پر خرچ کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ بشار الاسد کی یہ ویڈیو اس وقت کی ہے جب ان کی مشیر لونا الشبل اور ان کے معاون امجد عیسیٰ کار میں سفر کر رہے تھے اور اس بات کے کہتے ہوئے ویڈیو محفوظ کر لی گئی۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ ویڈیو کتنی پرانی ہے اور کس موقع کی ہے۔

یاد رہے بشار الاسد کی رجیم کو شام سے اقتدار سے محروم کیے ہوئے 8 دسمبر کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ پچھلے سال 8 دسمبر کو احمد الشرع کے زیر قیادت ایک مسلح بغاوت میں اقتدار سے چلتا کیا گیا تھا۔ تب سے لے کر اب تک بشار الاسد ماسکو میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں۔

روس بشار الاسد رجیم کا غیر معمولی اتحادی رہا ہے اور شام میں طویل خانہ جنگی کے دوران بھی روس ہی بشار الاسد اور اس کی فوج کو اپنے شہریوں کے خلاف لڑنے کے لیے اسلحہ و امداد دیتا رہا ہے۔

بشار الاسد رجیم کا ایک سال مکمل ہونے پر 'العربیہ' نے بطور خاص اس ایکسکلوزیو ویڈیو فوٹیج کو اپنی خبر کا موضوع بنایا ہے جس میں وہ اہل شام کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ یہ کھانے کے لیے پیسے نہ ہونے کے باوجود مسجدیں بنانے پر لگے رہتے ہیں۔

الاسد نے ایک موقع پر شام کی صورتحال کے بارے میں یہ بھی کہا تھا کہ جو کچھ شام میں ہو رہا ہے مجھے اس پر کوئی شرم نہیں ہے۔ البتہ یہ اچھا نہیں لگتا۔

ایک اور ویڈیو میں وہ دمشق کے مضافاتی علاقے مشرقی غوطہ کے بارے میں توہین آمیز اور سخت ریمارکس دیتے ہوئے دکھائے گئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ غوطہ پر لعنت ہو۔

ویڈیو کلپ کے باقی حصے میں وہ مشیر کے ساتھ حزب اللہ کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ اپنی استعداد بڑھانے کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور اب ہم ان کی طرف سے کوئی بات سن نہیں پاتے ہیں۔

اسی ویڈیو میں بشار الاسد کو اپنی مشیر کے ساتھ مل کر شامی فوجیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

یاد رہے شامی صدر کی مشیر جولائی 2024 میں انتقال کر گئی تھیں۔ وہ ایک کار حادثے میں زخمی ہوگئی تھیں۔

لیک کی گئی یہ ویڈیو فوٹیج ان کی گفتگو کو زیر بحث لانے کا ایک اہم موضوع بن گئی ہے کہ بشار الاسد اپنی حکمرانی کے دوران اپنی عوام کا مذاق اڑاتے تھے اور عوام کو اپنا مخالف قرار دیتے تھے۔

اس ایکسکلوزیو ویڈیو فوٹیج کو اس سے قبل بشار الاسد کے صدارتی محل میں ان اشیاء میں رکھا گیا تھا جنہیں ٹاپ سیکریٹ دستاویزات کا نام دیا جاتا رہا اور یہ ڈاکیومنٹس ان کی مشیر کے زیر ملکیت رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں