ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے اعلان کیا کہ ان کے ملک نے میزائل، ڈرون اور دفاعی صلاحیتوں سے دشمن سے "فرسٹ سٹرائک" کا حق چھین لیا ہے۔ ان کا ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
فارس نیوز ایجنسی کے منگل کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مسلح افواج نے اس میزائل طاقت کو بڑھانے کے عمل کو فوری طور پر تیز کر دیا ہے۔
جنرل اسٹاف برائے مسلح افواج میں ثقافتی اور نرم جنگ کے امور کے معاون اور ترجمان ابوالفضل شکارچی نے ملک کے کچھ ثقافتی حکام کے انقلابی گارڈز کے زیر اہتمام خلائی نمائش کے دورے کے دوران کہا کہ نمائش میں رکھا گیا تمام ساز وسامان مکمل طور پر ملکی پیداوار ہے، یہ سائنسدانوں، فضائیہ اور وزارت دفاع کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی افواج نے اپنی کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کے ازالے کے بعد اپنی صلاحیتیں بڑھا لی ہیں۔ اب وہ کسی بھی ممکنہ مستقبل کے مقابلے کے لیے اسرائیل کے ساتھ زیادہ تیار ہیں۔
بیلیسٹک میزائل بنانے کی عادت
اسی دوران "یديعوت احرونوت" اخبار نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کی ایک نمائندہ نے کنیسٹ کی خارجہ اور سکیورٹی کمیٹی کے سامنے خفیہ بریفنگ میں کہا کہ ایران تقریباً چھ ماہ بعد دونوں طرف کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوبارہ تیز رفتاری سے بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے۔
اسرائیل نے رواں برس جون کی بارہ روزہ جنگ کے دوران ایران کے اندر میزائل سٹوریج اور پیداوار کی سائٹس کے ساتھ ساتھ ایٹمی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
اسی دوران اسرائیل نے درجنوں اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنسدانوں کو بھی ہلاک کیا۔ اس کے بعد سے اسرائیل نے تہران کو اپنی فوجی اور ایٹمی صلاحیتیں دوبارہ حاصل کرنے سے روکنے کی دھمکی دی ہے اور ساتھ ہی کسی بھی خطرے سے خبردار کیا ہے جو اسرائیل کی سلامتی کو لاحق ہو۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پہلے بھی کہا تھا کہ تہران کے ساتھ تصادم ختم نہیں ہوا۔ اسی دوران کچھ مغربی سفارت کاروں اور مبصرین نے دونوں ممالک کے درمیان تصادم دوبارہ شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔