سعودی عرب: ڈیٹا ایمبیسیز کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی خودمختاری کا نیا ماڈل تیار
سعودی عرب جی 20 میں ڈیٹا سفارت خانوں کے لیے جامع قانون سازی کی تیاری کر نے والی پہلی ریاست
دنیا بھر میں ممالک مقامی ڈیٹا سینٹرز بنا کر ڈیجیٹل سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی خودمختاری کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں، ایسے میں سعودی عرب ایک بالکل مختلف سمت بڑھ رہا ہے۔ یہ سمت ڈیٹا سفارت خانے کی ہے۔
اس تصور کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ریاست اپنا ڈیٹا جغرافیائی حدود سے باہر ذخیرہ کرے لیکن وہ اس کے قانونی دائرہ کار میں ہی رہے، بالکل اسی طرح جیسے سفارت کار سفارت خانے کام کرتے ہیں۔
اس حوالے سے"سی این بی سی" کی رپورٹ العربیہ بزنس کی نظر سے گذری۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تجربہ مکمل طور پر نیا نہیں۔ سنہ 2017ء میں ایسٹونیا نے دنیا کی پہلی ڈیٹا ایمبیسی قائم کی تھی جس کے بعد موناکو نے بھی یہی راستہ اپنایا۔ تاہم سعودی عرب اس آئیڈیا کو وسعت دے کر اسے مصنوعی ذہانت کے دور سے ہم آہنگ ایک جامع قانونی فریم ورک میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
ٹیک شعبے کے نئے زاویے
اگرچہ سعودی عرب کے پاس شمسی توانائی کی بے پناہ صلاحیت ہے، مگر ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا کرنے کے لیے درکار پانی کی قلت ایک مسئلہ ہے۔ اسی لیے طویل مدت میں ڈیٹا برآمد کرنا تیل کے متبادل کے طور پر ایک پرکشش آپشن بنتا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہو رہی ہے جب خلیجی ممالک میں سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی جائنٹس کو متوجہ کرنے کی دوڑ شدید تر ہو چکی ہے۔
قانونی اور سفارتی چیلنجز
ماہرین کے مطابق ڈیٹا سفارت خانوں پر عمل درآمد ایک پیچیدہ عمل ہے کیونکہ اس کے لیے دو طرفہ معاہدوں کی ضرورت ہوتی ہے جو عدالتی دائرہ کار اور میزبان و مہمان ریاست کے تعلقات کی نوعیت طے کریں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور انٹرنیٹ گورننس کے ماہر وکٹر مائر شون برگَر کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی دونوں ممالک کے باہمی اعتماد پر منحصر ہے کیونکہ فی الحال اس مقصد کے لیے کوئی عالمی قانونی فریم ورک موجود نہیں۔
سعودی عرب جی 20 کا وہ پہلا ملک بننے کی کوشش کر رہا ہے جو اس نوعیت کی تنصیبات کے لیے جامع قانون مرتب کرے۔ عالمی مصنوعی ذہانت کے مجوزہ قانون میں مختلف درجات کی تحفظی سطحیں شامل ہیں، جن میں مکمل خودمختاری سے لے کر محدود عدالتی تعاون والے ہائبرڈ ماڈل بھی موجود ہیں۔
امریکہ چین ڈیٹا تنازع کے تناظر میں تجزیہ
ڈیٹا سفارت خانوں کو بعض حلقوں میں ایسے حل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جو ٹک ٹاک جیسے تنازع میں مدد دے سکتے ہیں جہاں امریکی صارفین کے ڈیٹا تک چینی حکومتی رسائی پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جن ممالک کے درمیان عدم اعتماد پایا جاتا ہے وہاں اس حل کو اپنانا مشکل ہے۔
گوگل اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیاں یورپی صارفین کے لیے ایسے ڈیٹا مراکز پہلے ہی بنا چکی ہیں جن کے ذریعے امریکی حکومت کی رسائی مخصوص حد تک محدود کی جا سکتی ہے، مگر اس ماڈل کی افادیت پر بحث اب بھی جاری ہے۔
غیر واضح سکیورٹی اور مختلف معیار
سکیورٹی خدشات کے بڑھنے اور عالمی انضمام میں کمی کے ساتھ ڈیجیٹل خودمختاری کا بیانیہ زور پکڑ رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اصطلاح ابھی تک واضح طور پر متعین نہیں اور یورپی ممالک تک میں اس کی تعریف مختلف ہے۔
سائبر سکیورٹی کمپنی پالو آلٹو کا کہنا ہے کہ ڈیٹا ایمبیسیز زیادہ تر حساس حکومتی ڈیٹا مثلاً ٹیکس ریکارڈ، طبی معلومات اور انتظامی فائلوں کے لیے موزوں ثابت ہو سکتی ہیں۔
جغرافیائی فوائد اور کم لاگت
سعودی عرب کو زمین اور توانائی کی کم لاگت کے ساتھ ساتھ یورپ اور ایشیا کے درمیان اس کے اسٹریٹجک محلِ وقوع کا فائدہ بھی حاصل ہے۔
تاہم ڈیٹا سینٹرز کی اعلیٰ بجلی کھپت اور بڑھتے ہوئے کاربن اخراج اہم چیلنج ہیں، خصوصاً اس پس منظر میں کہ سنہ 2023ء میں سعودی عرب کی 64 فی صد توانائی تیل پر انحصار کرتی تھی۔
اگرچہ سعودی عرب اس ماڈل کو آگے بڑھانے والا ایک بنیادی رہنما ملک بن چکا ہے، بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مضبوط قومی ریاستوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے سبب یہ ماڈل عالمی رجحان میں تبدیل نہیں ہو پائے گا۔
اس کے باوجود سعودی عرب ان چند اولین ممالک میں شامل ہے جو اس نظریاتی آئیڈیا کو عملی، پالیسی سطح پر منتقل کر کے عالمی ڈیجیٹل اثر و رسوخ کا نقشہ تبدیل کرنے کی سمت بڑھ رہے ہیں۔