جنوبی شام میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اغوا شہری کی اہلیہ کا شوہر کی رہائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شام میں اسد رجیم کے خاتمے کے بعد سے اسرائیلی کارروائیاں شام میں بدستور جاری ہیں۔ تازہ ترین واقعہ منگل کے روز پیش آیا جب اسرائیلی فوجی القنیطرہ کے دیہی علاقے میں داخل ہوئے۔

اس سے قبل گذشتہ ہفتے بھی اسرائیلی فورسز ريف دمشق کے جنوب میں واقع بلدہ بیت جن کے اطراف میں دراندازی کے بعد گلہ بانوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے فائرنگ کر چکی ہیں۔

اس واقعے سے آٹھ روز پیشتر اسی گاؤں میں اسرائیلی فوج نے ایک فضائی حملے کے ذریعے 13 افراد کو قتل اور درجنوں کو زخمی کیا تھا۔ یہ حملہ مختصر زمینی دراندازی اور مقامی لوگوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد کیا گیا تھا جنہوں نے اپنی زمین کا دفاع کرنے کی کوشش کی۔

بیت جن، جنوبی شام سے (آرکائیو تصویر - رائٹرز)
بیت جن، جنوبی شام سے (آرکائیو تصویر - رائٹرز)

"ہم پر دہشت گردی کا الزام لگا دیا گیا"

جب العربیہ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کی ٹیم صورت حال جاننے کے لیے بیت جن پہنچی تو ایک مقامی خاتون نے بتایا کہ "إسرائیل نے اس کے شوہر محمد عکاشہ اور ان کے بھائی نضال کو قتل عام والے دن صبح چار بجے گرفتار کرکے لے گئی تھی۔

خاتون کے مطابق اسرائیل نے ان پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا ہے۔ وہ حیران تھیں "آخر دہشت گردی کہاں ہے جب ہم اتنی غربت میں جی رہے ہیں"۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر کھیتی باڑی کرتے ہیں اور انگور و انجیر کے موسم کا انتظار کرتے ہیں تاکہ ان سے روزی روٹی کا بندوبست کر سکیں۔ ان کی مالی حالت ہی ان کے بے قصور ہونے کا ثبوت ہے۔

بیت جن، جنوبی شام سے (آرکائیو تصویر - رائٹرز)
بیت جن، جنوبی شام سے (آرکائیو تصویر - رائٹرز)

"خوف نے پورے علاقہ کو گھیر لیا"

خاتون نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ان کے گھر میں اسلحہ کی تلاش کے بہانے تلاشی لی مگر کچھ نہ ملا۔ ان کے بہ قول پورے علاقہ میں خوف پھیل چکا ہے اور بہت سے خاندان اسرائیلی رویے کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ فوج کے داخل ہونے سے گھروں میں توڑ پھوڑ بھی ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں نے اسرائیلی فوجیوں پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ گھروں میں بلا اجازت داخل ہوئے۔

خاتون نے متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ ان کے شوہر اور بھائی کی رہائی کے لیے فوری قدم اٹھایا جائے اور ان کے انجام کا پتا لگایا جائے۔

بیت جن، جنوبی شام سے (آرکائیو تصویر - رائٹرز)
بیت جن، جنوبی شام سے (آرکائیو تصویر - رائٹرز)

اقوام متحدہ کی فیلڈ جائزہ ٹیم

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی امن فوج "اندوف" کا ایک وفد بھی گذشتہ اتوار بیت جن پہنچا تھا تاکہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کا جائزہ لے اور ہونے والے نقصانات کا اندراج کر سکے۔

یہ تیسرا موقع تھا کہ اندوف نے اس علاقے کا دورہ کیا ہو۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج کے حملے میں 13 افراد جاں بحق اور 25 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

دمشق نے اسرائیل پر ایک "مجرمانہ حملہ" کرنے کا الزام لگایا تھا جبکہ تل ابیب نے دعویٰ کیا کہ "اس کی فورسز کو مسلح افراد کی گرفتاری کے دوران فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا"۔

اسرائیلی فوج کے مطابق بیت جن میں جھڑپ کے دوران اس کے 6 فوجی زخمی ہوئے جن میں سے 3 کی حالت نازک تھی۔ الزام یہ عائد کیا گیا کہ زیرِ حراست افراد بارودی سرنگیں بچھانے اور اسرائیل پر آئندہ حملوں سمیت راکٹ داغنے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔

ادھر اسرائیلی چینل 13 نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج شامی علاقوں میں گرفتاریوں کے بجائے فضائی ٹارگٹڈ کارروائیوں کی طرف جا رہی ہے تاکہ اپنی فورسز کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں