جنوبی عبوری کونسل کے اقدامات حوثیوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں: یمنی ارکان پارلیمان
شبوہ، حضرموت اور المہرہ میں کونسل کے اقدامات مسترد کرتے، سعودی عرب یمن کو خطرات سے بچا رہا ہے
یمنی ایوان نمائندگان نے ملک کے مشرق میں جنوبی عبوری کونسل کے اقدامات کو قومی صفوں میں پھوٹ ڈالنے اور حوثیوں کی خدمت کرنے کے مترادف قرار دیا۔ ایوان نمائندگان نے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا جس نے حالات کو حل کرنے اور پرسکون کرنے کے طریقوں پر بات چیت کے لیے ایک وفد بھیجا۔
ارکان پارلیمان نے زور دیا کہ سعودی عرب یمن کے اتحاد، سلامتی اور استحکام اور ملک کو خطرات سے بچانے کی خواہاں ہے۔ یمنی ارکان پارلیمنٹ نے مشرقی گورنریوں میں ہونے والی افسوسناک پیش رفت کا بغور جائزہ لیا اور انہوں نے شبوہ، حضرموت اور المہرہ میں جنوبی عبوری کونسل کی طرف سے اٹھائے گئے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کر دیا۔ ان اقدامات میں اپنے علاقوں سے باہر کی افواج کو حرکت دینا، خود ساختہ ڈھانچے قائم کرنا اور جائز حکومت کے اختیارات پر حملہ کرنا شامل ہے۔
اسی تناظر میں یمنی ارکان پارلیمنٹ نے مشرقی گورنریوں میں یکطرفہ اقدامات کو قومی اتفاق رائے کے دائرہ کار سے باہر اور یمنی قیادت کونسل کے اختیارات سے تجاوز قرار دیا۔ انہوں نے جنوبی عبوری کونسل سے فوجی اقدامات کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ حضرموت قبائلی اتحاد کے سربراہ عمر بن حبرش نے ’’ عبوری کونسل ‘‘ پر طاقت کے ذٓریعے نئی حقیقت مسلط کرنے کے لیے مختلف قسم کے ہتھیاروں سے صوبے پر غدارانہ حملہ کرنے کا الزام لگایا۔
دوسری طرف حضرموت میں سعودی وفد کے سربراہ میجر جنرل محمد القحطانی نے پرسکون ہونے اور تنازع کو روکنے کی حمایت میں حضرموت کے حوالے سے سعودی عرب کے موقف کے استحکام کی تصدیق کی۔ انہوں نے حضرموت اور المہرہ سے عبوری کونسل سے وابستہ تمام افواج کے انخلا کے مملکت کے مطالبے پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حضرموت تنازع کا میدان نہیں ہے اور ریاض حضرموت اور المہرہ میں چھاونیوں کی ذمہ داری اور حفاظت سنبھالنے کے لیے وطن کی ڈھال فورسز کی حمایت کرتا ہے۔ سعودی عرب یمن میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے حصول اور اسے تنازعات کے مرحلے سے استحکام اور سلامتی کے مرحلے کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا سعودی عرب کی توجہ یمنی عوام کے خوشحالی، اقتصادی انضمام، اور ایک بہتر مستقبل کے تئیں ان کی خواہشات کو حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔