لبنان : اسرائیلی بمباری سے ایک اور لبنانی شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنان کی وزارت صحت نے اتوار کے روز اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جنوبی لبنان کے علاقے میں ایک اور لبنانی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ اسرائیلی حملے لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ بندی معاہدے کے باوجود جاری ہیں۔

تازہ ترین حملے میں جنوبی لبنان کو نشانہ بنایا گیا اور ایک شہری کو ہلاک کر دیا گیا۔

وزارت صحت کے بیان کے مطابق ایک شخص کو اسرائیلی فوج نے موٹر سائیکل کو نشانہ بناتے ہوئے ہلاک کیا۔ جو جنوبی لبنان کے یطر نامی علاقے میں تھا۔ اس حملے میں ہلاک ہونے والے شخص کے علاوہ ایک شخص زخمی بھی ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج نے فوری طور پر واقعے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

یاد رہے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی معاہدہ پچھلے سال 27 نومبر کو ہوا تھا اور جنگ بندی معاہدے کا دوسرا سال جاری ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوج جب چاہتی ہے جنوبی لبنان میں بمباری کا اعادہ کرتی رہتی ہے۔ عام طور پر اس کا یہی دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ حزب اللہ کے لوگوں کو نشانہ بناتی ہے جو دوبارہ سے منظم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہفتہ کے روز اسرائیلی فوج نے یہ اعلان کیا تھا کہ اس نے حزب اللہ کے مبینہ ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے کا منصوبہ ملتوی کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کا یہ مبینہ ہیڈکوارٹر ینوح میں قائم ہے۔

یہ التوا اس وجہ سے کرنا پڑا کہ لبنان کی فوج نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حزب اللہ کے اس مبینہ ہیڈکوارٹر کے بارے میں اطلاعات لبنانی فوج سے شیئر کرے تاکہ وہ خود اسے نشانہ بنائے۔ کیونکہ اس طرح اسرائیلی فوج کا بمباری کرنا جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

جنگ بندی معاہدے کے تحت حزب اللہ کو دریائے لیطانی سے اپنی فوج کو تقریبا 30 کلومیٹر پیچھے لانا تھا۔ تاکہ وہ اسرائیلی سرحد سے فاصلے پر چلی جائے اور علاقے میں جہاں بھی اس کے عسکری انفراسٹرکچر موجود ہیں انہیں ختم کرنا تھا۔

حکومتی منظور کردہ منصوبے کے مطابق لبنانی فوج کو رواں سال کے آخر تک دریائے لیطانی کے قرب و جوار سے حزب اللہ کے اہلکاروں سے اسلحہ واپس لینا ہے۔ بعد ازاں لبنانی فوج کو پورے ملک سے حزب اللہ سے اسلحہ واپس لینا ہے۔

حزب اللہ کے چیف سربراہ نعیم قاسم نے ہفتہ کے روز ٹی وی پر دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ حزب اللہ سے اسلحہ واپس لینے سے اسرائیل کے مقاصد پورے نہیں ہو سکیں گے۔ حتیٰ کہ اگر پوری دنیا بھی لبنان کے خلاف اکٹھی ہو جائے تو بھی لبنان کے خلاف اسرائیلی مقاصد پورے نہیں ہو سکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں