ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے زور دے کر کہا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی ان مقامات کے معائنہ کا مطالبہ نہیں کر سکتی جو اسرائیل کے ساتھ جون کی جنگ کے دوران حملے کا نشانہ بنے تھے۔
عالمی ایجنسی جارحیت پر خاموش ہے اور اس کے پاس مخصوص پروٹوکول کی کمی ہے۔ نیوز ایجنسی ’’ تسنیم‘‘ کے مطابق محمد اسلامی نے کہا اسرائیل اور امریکہ کا دباؤ ان کے ملک پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بین الاقوامی ایجنسی کے پاس حملے کا نشانہ بننے والے مقامات کے معائنہ کے بارے میں کوئی پروٹوکول ہے تو اسے جائزہ لینے کے لیے ہمیں پیش کرنا چاہیے۔
فی الحال معائنہ نہیں ہو رہا
ایرانی جوہری توانائی کے ترجمان بہروز کمالوندی نے تصدیق کی ہے کہ جوہری تنصیبات کا فی الحال کوئی معائنہ نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ گزشتہ عرصے کے دوران کیے گئے معائنے، بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ تعاون کی معطلی کے قانون کی بنیاد پر، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی منظوری سے کیے گئے تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ جن تمام مقامات کا معائنہ کیا گیا تھا وہ صنعتی سرگرمیوں سے متعلق تھے جن پر کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔
کمالوندی نے مزید کہا کہ بمباری کا نشانہ بننے والی تنصیبات تک رسائی کی اجازت دینے میں تیزی لانے کے لیے دباؤ ہے لیکن ملک کی سلامتی اور جوہری تنصیبات کے تقاضے سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت پیدا کرتے ہیں۔ یہ ایسے فیصلے ہوں جو قانون پر مبنی ہوں اور جو تنصیبات کو کسی بھی خطرے سے مکمل طور پر محفوظ رکھیں۔
بین الاقوامی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے گزشتہ ماہ نومبر میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں ایران سے مکمل اور فوری تعاون کرنے اور ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ہتھیار بنانے کی حد کے قریب کی سطح تک افزودہ شدہ یورینیم کے ذخیرے کے بارے میں "درست معلومات" فراہم کرنے اور جوہری تنصیبات تک رسائی کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یاد رہے تہران نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ اپنا تعاون معطل کر دیا تھا اور اس پر الزام لگایا تھا کہ وہ اسکی تنصیبات کے بارے میں معلومات اسرائیلی فریق کو لیک کرنے میں ملوث ہے اور ایجنسی نے اسرائیلی اور امریکی حملے کی مذمت نہیں کی۔
یہ اسرائیل کی جانب سے گزشتہ جون میں کی گئی 12 روزہ جنگ کے بعد ہوا تھا۔ یہ جنگ اس وقت ہوئی جب امریکہ اور ایران نے 2025 میں عمان کی سلطنت کی ثالثی میں جوہری مذاکرات کے 5 دور منعقد کیے تھے۔ یہ ادورا کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے تھے۔ تہران کا وفد چھٹے دور کے لیے تیار ہو رہا تھا کہ اسرائیل نے ایرانی سرزمین پر اچانک حملہ کردیا اور واشنگٹن بھی اس میں شامل ہو گیا تھا۔