گرفتار ایرانی نوبل انعام یافتہ نرگس محمدی کی صحت خراب ہوگئی ، پھر ہسپتال منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی نوبل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کو گرفتاری کے تقریباً تین دن بعد دو بار ہسپتال منتقل کردیا گیا اور حراست کے بعد اپنی پہلی ٹیلی فون کال کے دوران وہ صحت کی بری حالت میں دکھائی دیں۔ پیر کو ان کی حامی فاؤنڈیشن نے یہ اطلاع دی۔

نرگس محمدی فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ حراست کے دوران محمدی کو سر اور گردن پر لاٹھیوں سے مارا گیا۔ انہیں بار بار مارا گیا۔ کال کے دوران ان کی جسمانی حالت اچھی نہیں تھی اور وہ صحت کی خراب حالت میں دکھائی دے رہی تھیں۔

ایرانی سول سوسائٹی کے کارکنوں، جن میں فلم ساز جعفر پناہی بھی شامل ہیں، نے نرگس محمدی اور جمعہ کو گرفتار کیے گئے دیگر کارکنوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ نرگس محمدی کو گزشتہ جمعہ کو مشہد شہر میں وکیل خسرو علی کردی کی یادگاری تقریب میں تقریر کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ وکیل خسرو کی لاش اس مہینے کے شروع میں مردہ حالت میں پائی گئی تھی۔

مشہد کے پراسیکیوٹر حسن ہمتی فر کے مطابق تقریب کے دوران 38 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں نرگس محمدی اور ممتاز کارکن سپیدہ قلیان شامل ہیں۔ خسرو علی کردی کے بھائی جواد کو اسی دن بعد میں گرفتار کیا گیا۔ نرگس محمدی نے گزشتہ دہائی کا بیشتر حصہ جیل اور آزادی کے درمیان گزارا اور انہیں دسمبر 2024 میں طبی رخصت پر جیل سے باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے گزشتہ سال اپنی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں