ایران نے زیرِ حراست نوبل انعام یافتہ کے آزادانہ طبی معائنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا
نرگس محمدی کے اہلِ خانہ پریشان
نوبل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کو گذشتہ ہفتے گرفتاری کے دوران زدوکوب کیا گیا تھا جس کے بعد ایرانی حکام ان کے آزادانہ طبی معائنے سے انکار کر رہے ہیں، یہ بات ان کے اہلِ خانہ نے منگل کو کہی۔
ناروے میں رہائش پذیر ان کے بھائی حامد رضا محمدی نے ویڈیو لنک کے ذریعے پیرس میں صحافیوں کو بتایا کہ ان کی بہن نے اتوار کو ایران میں اپنے دوسرے بھائی کو ایک مختصر ٹیلی فون کال کے دوران بتایا تھا کہ پولیس نے ان کے چہرے، سر اور گردن پر ڈنڈوں سے مارا تھا۔
محمدی جنہوں نے 2023 میں نوبل انعام حاصل کیا، انہیں جمعہ کے روز مشہد کے مشرقی شہر میں وکیل خسرو علیکردی کے لیے ایک یادگاری تقریب سے خطاب کے بعد درجنوں کارکنان کے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا۔ علیکردی اس ماہ کے شروع میں مردہ پائے گئے تھے۔
حامد رضا محمدی نے کہا، "ان کی گردن اور چہرے پر خراشوں کے نشان ہیں۔ جسمانی طور پر ان کی حالت بہت خراب تھی۔"
انہوں نے مزید کہا، "(ایران میں موجود) میرے بھائی نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایک آزاد ڈاکٹر سے ان کا معائنہ کروانے پر رضامند ہو جائیں تاکہ یہ یقینی ہو کہ ان کے سر یا کسی اور عضو میں اندرونی طور پر خون تو نہیں بہہ رہا۔ لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے۔ ہم بہت پریشان ہیں کہ انہیں کیسے اور کہاں رکھا جا رہا ہے اور ان سے کیسا سلوک ہو رہا ہے۔"
پیرس میں رہائش پذیر ان کے شوہر تقی رحمانی نے مزید کہا: "میرے برادرِ نسبتی نے ایک آزاد ڈاکٹر سے ان کا معائنہ کروانے کے لیے کہا لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ اب ہم بہت پریشان ہیں کہ ان کا کیا ہو گا۔"
پیر کے روز ان کے حامیوں نے کہا تھا کہ جیل حکام محمدی کو گرفتار کرنے کے بعد دو بار ہسپتال لے کر گئے۔
منگل کو ایک الگ بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایرانی سکیورٹی فورسز پر نرگس محمدی کی گرفتاری کے دوران "تشدد اور دیگر ناروا سلوک" کرنے کا الزام لگایا جس میں انہیں اور ان کے ساتھی کارکن علیح مطلب زادہ کو "پرتشدد طریقے سے زدوکوب کرنا" بھی شامل تھا۔
ایرانی حکام نے کہا ہے کہ یادگاری تقریب میں 39 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں علیکردی کے بھائی جواد بھی شامل تھے۔
لیکن محمدی خاندان کی پیرس میں مقیم وکیل شیرین ارداکانی نے کہا کہ تقریب میں "کم از کم 50 افراد کو من مانی حراست میں لیا گیا" جس میں ان کے مطابق تقریباً 1500 افراد نے شرکت کی اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کے درمیان نرگس محمدی نے خطاب کیا۔