العربیہ ایکسکلوسیو

شام اور اسرائیل کے درمیان متوقع سکیورٹی معاہدہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہو گا : اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی ریاست کے وزیر خارجہ گیڈون سائر نے کہا ہے کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ شام کے ساتھ سکیورٹی سے متعلق معاہدہ ہو جائے۔ اسرائیل کے ساتھ شامی معاہدہ دونوں ملکوں کے فائدے میں ہوگا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ' العربیہ ' کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔

گیڈون سائر نے کہا اسرائیل ریاست شام کے علاقوں پر قبضے کے لیے کوئی عزائم نہیں رکھتا ہے۔ نہ ہی اسرائیل کے شامی سرزمین کے حوالے سے کبھی ایسے ارادے رہے ہیں۔ اگر واقعی اسرائیل کے کچھ ایسے ارادے ہوتے تو اسرائیل شام کا کافی علاقہ قبضے میں لے چکا ہوتا۔

انہوں نے 'العربیہ' کو دیے گئے اپنے انٹرویو کے دوران کہا ' اسرائیل اور شام کے درمیان ممکنہ سکیورٹی معاہدہ دونوں ملکوں کے حق میں بہتر ہوگا۔ کیونکہ اسرائیل شام کے علاقے سے کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا فروغ نہیں چاہتا ہے۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ نے لبنان پر اسرائیل کے حملے اور گاہے گاہے کی جانے والی بمباری کے بارے میں کہا یہ لبنان کی سرحدی خودمختاری کے خلاف نہیں ہے بلکہ لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کا وجود لبنان کی خودمختاری کے خلاف ہے۔ حزب اللہ کی وجہ سے لبنانی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے۔

گیڈون سائر نے اسرائیل کے ساتھ لبنانی تنازعات کے سوال پر کہا یہ بہت معمولی تنازعات ہیں جن کو ہم لبنان کے ساتھ آسانی سے حل کر سکتے ہیں۔ لبنان کے لیے اصل مسئلہ حزب اللہ اور ایران ہیں۔

اسرائیل کی خواہش ہے کہ لبنان کے ساتھ تعلقات کو نارمل کرے اور امن قائم ہو۔ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کے لیے لازم ہے کہ وہ حزب اللہ کا خاتمہ کرے اور لبنان واپس لبنانی عوام کے ہاتھوں میں جائے۔

ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران صرف اسرائیل کا معاملہ نہیں بلکہ ایران کے جوہری پروگرام سے پورے خطے کو خطرات لاحق ہیں۔ کیونکہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش میں ہے جو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

غزہ میں جنگ بندی کے بارے میں ایک سوال پر کہا اسرائیل امید کرتا ہے کہ جنگ بندی دوسرے مرحلے میں جائے گی۔ لیکن اس سلسلے میں سب سے کلیدی رکاوٹ حماس کا غیر مسلح نہ ہونا ہے۔ ہم اپنی سرحدوں پر دہشت گردوں کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔

سڈنی میں حالیہ ہلاکت خیز حملے کے بارے میں ایک سوال پر اسرائیل کے وزیر خارجہ نے کہا یہ واضح بات ہے کہ دنیا یہود دشمنی روکنے کے لیے ضروری اور کافی اقدامات نہیں کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں