دبئی پولیس نے جمعرات کے روز دبئی کے رہنے والے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ جاری جدید بارشوں کی وجہ سے وہ صرف انتہائی ضروری کام کے لیے باہر نکلیں اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ کیونکہ بارشوں کا ایک شدید ریلہ صحراؤں تک کو اپنی لپیٹ میں لینے والا ہے۔
پولیس کی طرف سے یہ انتباہ شہریوں کو اس وقت جاری کیا گیا ہے جب بارش نے اماراتی شہر کی گلیوں تک کو سیلابی ماحول سے بھر دیا۔
پولیس نے مقامی لوگوں کے لیے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعہ کے روز غیر یقینی موسم کے پیش نظر عمومی اور قدرے ضروری کاموں کے لیے گھروں سے باہر نہ نکلیں ۔
پولیس کی طرف سے یہ انتباہی پیغام دبئی کے شہریوں کو ان کے فونز پر میسیجز کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔
دبئی میں قائم موسمیاتی ادارے 'نیشنل سینٹر فار میٹرالوجی' نے بھی مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بارشیں دبئی کے علاوہ دیگر مضافاتی آبادیوں میں بھی ہوں گی۔
یاد رہے طوفانی بارش کا یہ سلسلہ جمعرات سے جاری ہے اور کئی خلیجی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ ان ممالک میں عرب امارات کے علاوہ قطر اور سعودی عرب بھی شامل ہے۔
پچھلے سال ماہ اپریل میں آنے والی طوفانی بارشوں نے بھی متحدہ عرب امارات میں گلیوں تک پانی کو ایسے بھر دیا تھا کہ جیسے وہ دریا بن گئی ہوں۔
یاد رہے دبئی کا ایئرپورٹ دنیا کے مصروف ترین ایئرپورٹس میں سے ایک ہے۔ یہاں بین الاقوامی فلائٹس کا ہمہ وقت آنا جانا جاری رہتا ہے۔ تاہم بارشوں کے سلسلے میں پچھلے 76 برسوں کے دوران دیکھے جانی والی شدت کے رجحان نے یہاں کے موسم کو کافی متاثر کیا ہے۔
صرف پچھلے سال بارشوں کی وجہ سے دبئی اور خلیجی ملکوں میں چار شہری ہلاک ہوئے تھے جن میں فلپائن سے تعلق رکھنے والے مزدور بھی شامل تھے۔
عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق امور کو دیکھنے والے ادارے 'ڈیبلیو ڈیبلیو اے' کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں کا تعلق موسمیاتی تبدیلیوں سے ہے جو عالمی سطح پر درپیش ہیں۔