پوتن کی میکرون سے بات کرنے پر آمادگی 'خوش آئند' ہے: فرانسیسی ایوان صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانسیسی ایوانِ صدر نے اتوار کے روز اس بات کا خیرمقدم کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن ایمانوئل میکرون سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں جب فرانسیسی رہنما نے کہا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے یورپ کو روس سے دوبارہ رابطہ کرنا چاہیے۔

"یہ بات خوش آئند ہے کہ کریملن نے اس نکتۂ نظر سے اعلانیہ اتفاق کیا ہے۔ ہم آئندہ دنوں میں پیش رفت کے بہترین طریقے کے بارے میں فیصلہ کریں گے،" ایلیسی محل نے کہا۔

تاہم فرانسیسی ایوانِ صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ماسکو سے کوئی بھی بات چیت یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ "مکمل شفافیت سے" ہو گی اور یہ کہ اس کا مقصد بدستور یوکرین کے لیے "ٹھوس اور دیرپا امن" کو محفوظ بنانا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا، سرکاری خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نووستی کے اتوار کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں پوتن نے اپنے فرانسیسی ہم منصب سے "مذاکرات کرنے پر آمادگی" کا اظہار کیا۔

میکرون نے ہفتے کے شروع میں خیال ظاہر کیا تھا کہ یوکرین تنازعہ ختم کرنے کے لیے یورپ کو پوتن سے دوبارہ رابطہ کرنا چاہیے، نہ کہ امریکہ کے مذاکرات میں سبقت لے جانے کے لیے میدان خالی چھوڑ دیا جائے۔

ایلیسی محل نے کہا، گذشتہ تین سالوں میں "یوکرین پر حملے اور صدر پوتن کی ضد سے بات چیت کا کوئی بھی امکان ختم ہو گیا"۔

تاہم یہ بھی کہا گیا، "جیسے ہی جنگ بندی اور امن مذاکرات کا امکان واضح ہو جائے تو پوتن سے بات کرنا دوبارہ کارآمد ہو جاتا ہے۔"

تنازعہ ختم کرنے کے مقصد سے امریکہ اس ہفتے کے آخر میں فلوریڈا میں مزید مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔

مذاکرات کے لیے امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ثالثی کر رہے ہیں جس میں ایک طرف یوکرائنی اور یورپی ایلچی اور دوسری طرف ہفتے کے روز پہنچنے والے روسی ایلچی کرل دمتریف ہیں۔

زیلنسکی نے کہا تھا کہ واشنگٹن نے ایک سہ فریقی طریقہ تیار کیا ہے جس میں ماسکو اور کئیف کے درمیان نصف سال میں پہلی بار روبرو مذاکرات ہوں گے لیکن کریملن نے اتوار کو یوکرین، روس اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کی تردید کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں