اسد حکومت کے مفرور عہدیدار کیسے روس میں پرتعیش زندگی گذار رہے ہیں؟

اسد رجیم کے سابق عناصر کی احتساب سے فرار کے بعد جلا وطنی میں زندگی کےبارے میں حیران کن انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تفصیلی تحقیق میں ان درجنوں اعلیٰ شامی عہدیداروں کے انجام سے پردہ اٹھایا گیا ہے جو شامی جنگ کے سب سے سنگین ادوار میں ملوث رہے۔ رپورٹ کے مطابق بشار الاسد کی حکومت کے سنہ 2024ء کے دسمبر میں سقوط کے باوجود ان میں سے کئی اب تک آزاد ہیں اور دولت اور میزبان ممالک کے تحفظ میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ احتساب سے بچتے چلے آ رہے ہیں۔

تحقیق کے مطابق سابق صدر بشار الاسد اپنے قریبی حلقے کے ہمراہ اپوزیشن دھڑوں کے ایک برق رفتار حملے کے بعد روس فرار ہو گئے تھے۔ وہ ماسکو میں فور سیزنز ہوٹل سے منسلک ایک پرتعیش کمپلیکس میں مقیم ہیں جہاں روسی حکام نے ان کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات اور آرام دہ قیام کو یقینی بنایا۔

اسی ہوٹل کے احاطے میں ان کے بھائی اور چوتھے ڈویژن کے کمانڈر ماہر الاسد کو بھی دیکھا گیا جبکہ دیگر عہدیدار شکست کے بعد اپنے مستقبل پر غور کرتے رہے۔

55 عہدیداروں کا سراغ

اخبار نے 55 سکیورٹی، عسکری اور دیگر عہدیداروں کا سراغ لگایا جن کے نام تشدد، قتل اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے جڑے رہے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ تقریباً نصف افراد کے ٹھکانے معلوم ہو سکے جبکہ اب تک صرف ایک ہی عہدیدار کو حراست میں لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان میں سے اکثر پر بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں اور بعض کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں تاہم وہ جعلی ناموں اور سفری دستاویزات کے ذریعے روپوش ہونے یا نقل و حرکت میں کامیاب رہے۔

روس میں فرار ہونے والے عہدیدار دو حصوں میں بٹے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک محدود طبقہ انتہائی آسائش کی زندگی گزار رہا ہے جو مہنگے شاپنگ سینٹرز میں خریداری کرتا اور لاکھوں ڈالر مالیت کی ولاز اور اپارٹمنٹس میں رہائش رکھتا ہے جبکہ سینکڑوں افسران فوجی مال بردار طیاروں کے ذریعے روس پہنچے جنہیں سابق سوویت دور کی عمارتوں میں سادہ حالات میں رکھا گیا۔

اسی دوران ماسکو نے ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور انہیں میڈیا میں ظاہر ہونے یا سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

یورپ میں پرتعیش زندگی

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ان عہدیداروں کے بعض اہل خانہ یورپ میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، کاروبار چلا رہے ہیں یا جائیدادوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں حالانکہ ان پر کیپٹاگون کی اسمگلنگ اور شہریوں کو نشانہ بنانے جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔

اس کے برعکس سابق رجیم کے بعض عہدیدار شام ہی میں موجود ہیں جو یا تو روپوش ہیں یا غربت اور گرفتاری کے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ تحقیق میں صرف ایک بڑے عہدیدار کی ایسی مثال درج کی گئی ہے جسے واقعی حراست میں لیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اسد خاندان کی نصف صدی سے زائد حکمرانی کے متاثرین آج بھی اپنے جلادوں کے ٹھکانوں سے لاعلم ہیں اور یہ سوال کر رہے ہیں کہ آیا کبھی ان کا احتساب ہو پائے گا یا نہیں۔

تحقیق میں شامی وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملوث افراد کے تعاقب کی کوششیں سیاسی عزم کی کمی، نئی شامی حکومت کی جانب سے اقتدار مستحکم کرنے پر توجہ اور بعض غیر ملکی ممالک کی جانب سے سابق اتحادیوں کو حوالے کرنے میں ہچکچاہٹ یا انہیں معلومات کے ذرائع کے طور پر استعمال کرنے کی خواہش کے باعث رکاوٹ کا شکار ہیں۔

اس کے باوجود تحقیق کے مطابق سابق شامی نظام کی کئی نمایاں شخصیات، چاہے جلاوطنی میں ہوں یا شام کے اندر، خود کو بے قصور قرار دیتی ہیں جبکہ انصاف اب بھی موخر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں