قدیم مصر کا حیرت انگیز راز…خوفو کی کشتی صدیوں بعد دوبارہ نمودار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

تاریخ کی شان اور آج کے دور کی جھلک کو اکٹھا کرتا ایک خاص منظرمصری عظیم میوزیم میں مرمّت کی ٹیموں نے فرعون خوفو کی ایک نایاب کشتی کو دوبارہ جوڑنے کا کام شروع کر دیا ہے، یہ سب کچھ زائرین کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔

یہ ایک منفرد تجربہ ہے جس میں عوام جدید دور کی سب سے بڑی آثارِ قدیمہ کی مرمّت کی کارروائی کو قدم بہ قدم دیکھ سکتے ہیں۔

منگل کی صبح سے ماہرین نے دیودار کی لکڑی سے بنی اس کشتی کی تنصیب کا آغاز کر دیا، جو اُن دو کشتیوں میں سے ایک ہے جو کئی دہائیاں قبل گیزہ میں اہرامِ اعظم کے قریب دریافت کی گئی تھیں، جیسا کہ خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں بتایا گیا۔

یہ کشتی 42 میٹر طویل ہے اور تقریباً 1650 لکڑی کے ٹکڑوں پر مشتمل ہے، جنہیں نہایت باریک بینی سے نمائش ہال کے اندر جوڑا جا رہا ہے، جہاں اس کی جڑواں کشتی پہلے ہی جوڑی جا چکی ہے اور برسوں سے نمائش کے لیے رکھی گئی ہے۔

چار سال

منصوبے پر کام کرنے والوں کے مطابق کشتی کی دوبارہ تنصیب کا عمل تقریباً چار سال پر محیط ہوگا، کیونکہ یہ آثارِ قدیمہ کے نہایت نازک حصوں پر مشتمل ہے اور کام کی پیچیدگی بہت زیادہ ہے۔ اس دوران ہر مرحلے کی مکمل دستاویز سازی کی جائے گی اور باریک ترین جزئیات کو محفوظ رکھا جائے گا، تاکہ ساڑھے چار ہزار سال قبل تیار کی گئی ،اس کشتی کو ممکنہ حد تک اس کی اصل حالت میں بحال کیا جا سکے۔

مرمّت کے کام کے آغاز کے موقع پر موجودگی کے دوران، مصر کے وزیرِ سیاحت و آثارِ قدیمہ شریف فتحی نے اس منصوبے کواکیسویں صدی کے اہم ترین مرمّتی منصوبوں میں سے ایک قرار دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ آج زائرین جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ محض ایک تکنیکی عمل نہیں، بلکہ ایک تاریخی لمحہ ہے، جس میں قدیم مصری تہذیب کا ایک باب دنیا کے سامنے ازسرِنو رقم ہو رہا ہے۔

میوزیم کے مطابق دونوں کشتیاں 1954ء میں اہرامِ اعظم کے جنوبی حصے کے سامنے موجود دو گڑھوں سے دریافت کی گئی تھیں، جبکہ ان کے لکڑی کے حصّوں کو نکالنے کا عمل 2014ء میں شروع ہوا۔

مقصد اب بھی تحقیق کا موضوع

آثارِ قدیمہ میں ہونے والی بڑی پیش رفت کے باوجود ان کشتیوں کا اصل مقصد اب تک ماہرین کے درمیان بحث کا موضوع ہے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ انہیں بادشاہ خوفو کے جسدِ خاکی کو جنازے کی رسومات کے دوران منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ دوسرے ماہرین کے مطابق یہ کشتیاں دیوتأ آفتاب راع کے ساتھ بادشاہ کے علامتی سفر، یعنی آخرت کی دنیا کی جانب روانگی کے لیے مخصوص تھیں۔

عظیم مصری میوزیم جسے مختصراً GEM کہا جاتا ہے، دنیا کا سب سے بڑا آثارِ قدیمہ کا میوزیم شمار ہوتا ہے۔ اس میں تقریباً پچاس ہزار نوادرات محفوظ ہیں، جن میں بادشاہ توت عنخ آمون کے وہ مکمل خزانے بھی شامل ہیں جو 1922ء میں دریافت ہوئے تھے۔

یہ میوزیم اہرامِ جیزہ کے قریب واقع ہے،اس سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مصر میں سیاحت کو نئی جان بخشے گا اور معیشت کو مضبوط کرے گا، کیونکہ یہاں آنے والے زائرین کو ایک ایسی ثقافتی اور علمی تجربہ گاہ میسر آئے گی جو انہیں انسانی تاریخ کی عظیم ترین تہذیبوں کے آثار سے براہِ راست روبرو کر دے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں