مصر کا غزہ کی پٹی کے لیے سب سے بڑا امدادی قافلہ ... 5900 ٹن سامان کی روانگی

آج صبح "زاد العزة.. مصر سے غزہ تک" کے عنوان سے 102 واں قافلہ چل پڑا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصری حکام نے آج جمعرات کو غزہ کی پٹی کے لیے تقریباً 5900 ٹن وزنی انسانی اور موسم سرما کی امداد کا قافلہ روانہ کیا۔

مصری ہلالِ احمر نے آج صبح "زاد العزة.. مصر سے غزہ تک" کے عنوان سے 102 واں قافلہ روانہ کیا، جو ہنگامی انسانی امداد کے ٹرکوں پر مشتمل ہے۔ یہ امداد کی فراہمی کے لیے بطور قومی رابطہ کار ادارے کے طور پر ان کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔ اس قافلے میں تقریباً 3 ہزار ٹن فوڈ باسکٹس اور آٹا، 1900 ٹن سے زائد طبی و امدادی سامان اور ایک ہزار ٹن سے زائد پیٹرولیم مصنوعات شامل ہیں۔

ہلالِ احمر نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں موسم کی خراب صورت حال کے پیش نظر موسمِ سرما کی بنیادی اشیاء بھی بھیجی گئی ہیں، جن میں 33,200 سے زائد کمبل، تقریباً 15,350 گرم ملبوسات، 4,800 گدے اور متاثرین کی پناہ کے لیے 3,150 خیمے شامل ہیں۔

یاد رہے کہ مصری ہلالِ احمر کی جانب سے شروع کیا گیا "زاد العزة.. مصر سے غزہ تک" نامی یہ سلسلہ 27 جولائی کو شروع ہوا تھا، جس کے تحت خوراک، آٹے، بچوں کے دودھ، طبی سازوسامان، ادویات، ذاتی نگہداشت کی اشیاء اور ہزاروں ٹن ایندھن پر مشتمل امداد پہنچائی جا رہی ہے۔

چند روز قبل فلسطینی ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا تھا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی صورت حال انتہائی ابتر ہے اور سردیوں کا موسم شروع ہونے کے ساتھ ہی دن بہ دن مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔

ذرائع نے وضاحت کی کہ آٹا، تیل، چینی، چاول اور بچوں کے دودھ جیسی بنیادی غذائی اشیاء کی شدید قلت ہے، جبکہ خوراک کی کمی کی وجہ سے ایک سال سے کم عمر کے تقریباً 50 ہزار شیر خوار بچوں اور پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 3 لاکھ بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

حال ہی میں مصر میں طے پانے والے "شرم الشیخ معاہدے" کے تحت فوری امداد کی فراہمی پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کا ہدف پہلے مرحلے میں روزانہ کم از کم 400 ٹرک اور بعد میں روزانہ 600 سے زائد ٹرکوں کا داخلہ یقینی بنانا ہے۔

معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی ایجنسیاں جیسے کہ انروا (UNRWA)، ہلالِ احمر اور غیر جانب دار بین الاقوامی تنظیمیں غزہ کی پٹی کے اندر امداد کی تقسیم اور انتظام کی ذمہ دار ہوں گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ امداد کسی بھی متحارب فریق کی مداخلت کے بغیر عام شہریوں تک پہنچے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں