لبنان کے صدر جوزف عون نے جمعہ کے روز سعودی عرب کی ان کوششوں کی تحسین کی ہے جو یمن میں جنگ بندی اور استحکام لانے کے لیے مملکت کر رہی ہے۔
یاد رہے یمن ایک طویل عرصے سے بڑی بری جنگی صورتحال اور دشمنی میں گرفتار رہا ہے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے سعودی عرب کے لیے اس تعریف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب یمن میں اتحاد ، مکالمے اور سیاسی حل کی طرف متوجہ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ تاکہ یمن کی خودمختاری ، اتحاد و یگانگت اور سماجی ڈھانچے کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
جوزف عون نے ان جذبات کا اظہار سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کیا اور مزید کہا سعودی عرب کی یہ کوششیں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ علاقے میں ایک ذمہ دارانہ اپروچ کے ساتھ موجود ہے۔ تاکہ معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کیا جا سکے اور کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔
لبنانی صدر نے ان قوتوں کی مذمت کی جو یمنی حوثیوں کی مدد کرتے ہیں اور ان کے شراکت دار ہیں۔ ان کے بقول ان حوثیوں کی مدد کے نتیجے میں یمن میں امن کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
صدر جوزف عون نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ سعودی مملکت اس معاملے میں کامیاب ہو اور اس کی کوششیں رنگ لائیں۔
اس موقع پر انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ لبنان کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا یہ مضبوط اور گہرے ہیں اور علاقائی استحکام کے لیے مشرکہ کمٹمنٹ پر مبنی ہیں۔
اسی روز بعدازاں شام کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بھی سعودی عرب کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا ہے اور سعودی کوششوں کو سراہا گیا ہے جو وہ یمن میں قیام امن کے لیے جاری رکھے ہوئے ہے۔
شام کے اس بیان میں یمن کے تمام متحارب فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اپنی یمنی حکومت کا ساتھ دیں۔
متحدہ عرب امارات، عمان، مصر اور اردن نے بھی اس سلسلے میں بیانات جاری کر کے یمنی حکومت کی حمایت کی ہے اور امن کے لیے کوششوں کی تعریف کی ہے۔