اسرائیل کی نقل و حرکت پر نظر ہے، کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیں گے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلوریڈا میں پیر کی شام اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی متوقع ملاقات سے قبل ایران نے اسرائیل پر شدید تنقید کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک اسرائیل کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنی تیاریوں کو بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی نئی مہم جوئی کا جواب بارہ روزہ جنگ کے دوران ہونے والے ردعمل سے کہیں زیادہ سخت دیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی فریق ایران کے خلاف دشمنی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے مختلف بہانے استعمال کر رہا ہے۔ نیتن یاہو کے اقدامات نے امریکہ کو ایسا دکھایا ہے جیسے وہ علاقائی عدم استحکام کی منصوبہ بندی کا مرکز ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکام کو اس تاثر کو درست کرنا چاہیے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کا لوگو ویانا میں اس کے ہیڈ کوارٹر میں - رائٹرز، 15 ستمبر 2025
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کا لوگو ویانا میں اس کے ہیڈ کوارٹر میں - رائٹرز، 15 ستمبر 2025

ایٹمی ایجنسی کے ساتھ تعلقات

ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کے ساتھ تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایران اس کا رکن ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایجنسی کے ساتھ تعاون کے لیے ایک نیا طریقہ کار وضع کرنے کے حوالے سے موضوع پر بحث اور تبادلہ خیال کی ضرورت ہے۔ یہ بیانات ان اسرائیلی توقعات کے درمیان سامنے آئے ہیں کہ نیتن یاہو ٹرمپ کو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو لگام دینے کے لیے مشترکہ امریکی اسرائیلی حملے پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں بھی آئے ہیں جب ایٹمی ایجنسی کے انسپکٹرز کی جانب سے ایٹمی تنصیبات کا معائنہ اب بھی رکا ہوا ہے کیونکہ تہران نے اس شعبے میں تعاون معطل کر دیا ہے اور ایک ایسا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت ایجنسی کے ساتھ کسی بھی تعاون کی منظوری اعلیٰ قومی سلامتی کونسل سے مشروط ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں