ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے، سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں دو افراد ہلاک
جنوب مغربی شہروں میں پانچویں روز بھی احتجاج، سرکاری عمارتوں اور بینکوں پر حملے
ایران کے جنوب مغربی علاقوں میں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے خلاف مظاہرے پانچویں روز بھی جاری رہے، جہاں جمعرات کو مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ان احتجاجی کارروائیوں کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے۔
دارالحکومت تہران سے تقریباً 650 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر لردغان میں مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر پتھراؤ کیا۔ ان میں صوبائی گورنریٹ کی عمارت، مسجد، شہدا فاؤنڈیشن، بلدیہ اور متعدد بینک شامل تھے۔ بعد ازاں مظاہرین نے دوبارہ گورنری کی عمارت کا رخ کیا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
ایجنسی نے متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی، جبکہ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکام نے سڑکوں پر پولیس کی بڑی تعداد تعینات کر دی ہے۔
اسی دوران رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنوب مغربی ایران کے شہر فارسان میں ہونے والے مظاہروں کے بعد کم از کم 20 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے بیشتر کی عمریں 18 برس سے کم بتائی جا رہی ہیں۔
سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ بسیج فورس کا ایک اہلکار مغربی ایران میں ہلاک جبکہ 13 دیگر زخمی ہوئے۔
حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش
دوسری جانب تہران حکومت نے کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کی پیشکش کی ہے۔ حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے جمعرات کو بتایا کہ حکام مزدور تنظیموں اور تاجروں کے نمائندوں کے ساتھ براہ راست مکالمہ کریں گے، تاہم اس کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
انطلقت في العاصمة #طهران وامتدت إلى مدن أخرى وانضم إليها طلاب جامعيون.. مقتل عنصر في قوات الباسيج التابعة للحرس الثوري الإيراني وإصابة 13 آخرين خلال احتجاجات على غلاء المعيشة في #إيران والرئيس بزشكيان يحذر من ضغوط اقتصادية خارجية#العربية pic.twitter.com/nRzjJMu7YG
— العربية (@AlArabiya) January 1, 2026
صدر مسعود پیزشکیان نے بھی کہا ہے کہ انہوں نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ مظاہرین کے جائز مطالبات کو غور سے سنیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران ایران کو مختلف وجوہات کی بنا پر احتجاجی تحریکوں کا سامنا رہا ہے، جن میں مہنگائی، خشک سالی، خواتین کے حقوق اور سیاسی آزادیوں کے مطالبات شامل ہیں۔ ان مظاہروں سے نمٹنے کے لیے حکام نے سخت سکیورٹی اقدامات اور وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔
معیشت، توانائی اور پانی، بحران کی مثلث
ایرانی معیشت کئی برسوں سے امریکی اور مغربی پابندیوں کے باعث دباؤ کا شکار ہے، جو اس کے جوہری پروگرام کے سبب عائد کی گئیں۔ رائٹرز کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں جون سنہ 2025ء میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ فضائی جنگ بھی ہوئی، جس نے ملک کی مالی حالت پر مزید دباؤ بڑھا دیا۔
حالیہ مظاہرے ایران میں گذشتہ تین برس کے دوران دیکھے جانے والے سب سے بڑے عوامی اضطراب قرار دیے جا رہے ہیں۔
-
اسرائیلی انٹیلی جنس ادارہ موساد ایران میں احتجاج کرنے والوں کی پشت پناہی کے لیے آگے آگیا
اسرائیلی ریاست کے سب سے بڑے انٹیلی جنس ادارے موساد نے ایران کے احتجاجی مظاہرین کو ...
مشرق وسطی -
ایران: سرکاری عمارت پر حملہ، عدلیہ کا سکیورٹی غیر مستحکم کرنے والوں کو انتباہ
ایرانی حکام نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف احتجاج کے چوتھے روز ...
مشرق وسطی -
ایران میں مظاہروں میں بسیج اہل کار کی ہلاکت ، صدر پزشکیان کی عوام سے یکجہتی کی اپیل
مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا آغاز اتوار کے روز ہوا
مشرق وسطی