ایران میں مظاہروں میں بسیج اہل کار کی ہلاکت ، صدر پزشکیان کی عوام سے یکجہتی کی اپیل
مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا آغاز اتوار کے روز ہوا
ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ملک کے مغربی حصے مین ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ بسیج فورس کا ایک اہل کار ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ ایران میں مہنگائی کے خلاف مختلف شہروں میں جاری مظاہروں کے چار روز بعد پیش آیا۔
ٹیلی وژن نے صوبہ لورستان کے نائب گورنر سعید پور علی کے حوالے سے بتایا کہ کوہ دشت شہر میں 21 سالہ بسیج اہل کار "امنِ عامہ کے دفاع کے دوران ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے ہاتھوں مارا گیا"۔
یہ احتجاجات کے آغاز کے بعد ہلاکت کا پہلا واقعہ ہے جس کا با ضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔ مظاہرے اتوار کے روز تہران سے شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں دیگر شہروں تک پھیل گئے اور ان میں یونیورسٹی طلبہ بھی شامل ہو گئے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک خطاب میں عوام سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حالات میں احتجاج کے بجائے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی صورت حال بہتر بنانے اور شہریوں کی قوتِ خرید میں اضافے کے لیے آئندہ چند گھنٹوں کے اندر نئے فیصلے کر سکتی ہے۔
پزشکیان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران کو مسلسل بیرونی دباؤ کا سامنا ہے، جسے انہوں نے ہمہ گیر جنگ سے تشبیہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو معاشی دباؤ کے ذریعے کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
صدر کا کہنا تھا کہ "ہم اس وقت ایک ہمہ گیر جنگ میں ہیں۔ دشمن کی زیادہ تر امیدیں ہمیں معاشی دباؤ کے ذریعے گرانے پر مرکوز ہیں۔ کسی قوم کو بموں، لڑاکا طیاروں یا میزائلوں سے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وہ ہمیں واقعی شکست دینا چاہتے ہیں تو انہیں میدان میں آ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ اور اگر ہم ثابت قدم رہے اور مل کر کام کرتے رہے تو ان کے لیے ایران کو جھکانا نا ممکن ہو جائے گا"۔
یہ مظاہرے گذشتہ کئی برسوں کے دوران ملک کے سب سے بڑے مظاہروں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ ان کا آغاز گذشتہ اتوار اس وقت ہوا جب وسطی تہران کے تجارتی علاقے میں دکان داروں نے خراب معاشی حالات کے خلاف اپنی دکانیں بند کر دیں۔ بعد ازاں تاریخی بازارِ بزرگ کے تاجروں نے بھی یہی قدم اٹھایا۔
منگل کو احتجاج کا سلسلہ تیسرے روز میں داخل ہو گیا جب تہران اور دیگر شہروں کی متعدد جامعات میں طلبہ نے احتجاجی اجتماعات منعقد کیے۔
حکومت نے بدھ کے روز زیادہ تر صوبوں میں سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا، اور اسے ہفتہ وار تعطیلات سے قبل اضافی چھٹی قرار دیا۔