شامی حکومت نے زور دے کر کہا ہے کہ حلب شہر کے حالات، بالخصوص شیخ مقصود اور الاشرفیہ محلوں کے حوالے سے "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (قسد) کا بیان حقائق کے منافی ہے اور یکم اپریل 2025 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
شامی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ "قسد" کا یہ تسلیم کرنا کہ حلب کے اندر ان کی کوئی فوجی موجودگی نہیں ہے، دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ شہر کے سکیورٹی معاملات میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ لہٰذا سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داری صرف شامی ریاست اور اس کے قانونی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
بيان صادر عن الحكومة السورية:
— حمزة المصطفى (@HmzhMo) January 7, 2026
تؤكد الحكومة السورية أن ما ورد في بيان قوات سوريا الديمقراطية بشأن الأوضاع في مدينة حلب، ولا سيما في حيّي الشيخ مقصود والأشرفية، يتضمن مغالطات جوهرية وتوصيفات لا تعكس الواقع الميداني، ويخالف اتفاقية الأول من نيسان عام 2025.
إن تأكيد قوات سوريا…
بیان میں مزید کہا گیا کہ کرد شہریوں سمیت تمام شہریوں کی حفاظت ریاست کی قومی ذمہ داری ہے اور سکیورٹی اقدامات کو کسی خاص گروہ کے خلاف نشانہ بنا کر پیش کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔
شامی حکومت نے کہا کہ تناؤ والے علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے تمام افراد کرد شہری ہیں جنہوں نے تصادم کے خوف سے ریاست کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں پناہ لی ہے جو ریاست پر ان کے اعتماد کا ثبوت ہے۔ دمشق نے مطالبہ کیا ہے کہ مسلح گروہ ان محلوں سے نکل جائیں اور شہریوں کو سیاسی کشیدگی سے دور رکھا جائے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حلب میں شامی سرکاری افواج اور 'قسد' کے جنگجوؤں کے درمیان مسلسل دوسرے دن بھی جھڑپیں جاری رہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری بے گھر اور کم از کم 4 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شامی سکیورٹی حکام نے ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا اشارہ دیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے شہریوں کے انخلا کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداریاں کھولی ہیں اور بسوں کے ذریعے تقریباً 10 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔