سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا بیان غلط، حلب کی سکیورٹی ہماری ذمہ داری: شامی حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شامی حکومت نے زور دے کر کہا ہے کہ حلب شہر کے حالات، بالخصوص شیخ مقصود اور الاشرفیہ محلوں کے حوالے سے "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (قسد) کا بیان حقائق کے منافی ہے اور یکم اپریل 2025 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

شامی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ "قسد" کا یہ تسلیم کرنا کہ حلب کے اندر ان کی کوئی فوجی موجودگی نہیں ہے، دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ شہر کے سکیورٹی معاملات میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ لہٰذا سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داری صرف شامی ریاست اور اس کے قانونی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ کرد شہریوں سمیت تمام شہریوں کی حفاظت ریاست کی قومی ذمہ داری ہے اور سکیورٹی اقدامات کو کسی خاص گروہ کے خلاف نشانہ بنا کر پیش کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔

شامی حکومت نے کہا کہ تناؤ والے علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے تمام افراد کرد شہری ہیں جنہوں نے تصادم کے خوف سے ریاست کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں پناہ لی ہے جو ریاست پر ان کے اعتماد کا ثبوت ہے۔ دمشق نے مطالبہ کیا ہے کہ مسلح گروہ ان محلوں سے نکل جائیں اور شہریوں کو سیاسی کشیدگی سے دور رکھا جائے۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حلب میں شامی سرکاری افواج اور 'قسد' کے جنگجوؤں کے درمیان مسلسل دوسرے دن بھی جھڑپیں جاری رہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری بے گھر اور کم از کم 4 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شامی سکیورٹی حکام نے ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا اشارہ دیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے شہریوں کے انخلا کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداریاں کھولی ہیں اور بسوں کے ذریعے تقریباً 10 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں