ایرانی عدلیہ کا زیرِ حراست مظاہرین کے لیے تیز قانونی کارروائی اور پھانسی کا عندیہ

جو کرنا ہے، جلد کرنا ہے: سربراہ ایرانی عدلیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتباہ کے باوجود بدھ کو عندیہ دیا ہے کہ ملک گیر مظاہروں میں زیرِ حراست افراد کے لیے تیزی سے مقدمے کی کارروائی ہو گی اور سزائے موت دی جائے گی۔

ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی آن لائن ویڈیو میں تبصرہ کیا۔

انہوں نے کہا: "اگر ہم کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ابھی کرنا چاہیے، اگر ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں جلد کرنا ہو گا۔"

انہوں نے مزید کہا: "اگر اس میں دیر ہو جائے تو دو مہینے، تین مہینے بعد اس کا اثر پہلے جیسا نہیں ہوتا۔ اگر ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں تیزی سے کرنا ہو گا۔"

ان کے تبصرے ٹرمپ کے لیے براہِ راست چیلنج کے طور پر سامنے آئے ہیں جنہوں نے سی بی ایس کے منگل کو نشر کردہ ایک انٹرویو میں ایران کو پھانسیوں کے بارے میں خبردار کیا۔

ٹرمپ نے کہا تھا، "ہم سخت کارروائی کریں گے۔ اگر انہوں نے ایسی کوئی حرکت کی تو ہم نہایت سخت کارروائی کریں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں