سعودی عرب: کوہ السودہ کی چوٹیوں میں پانچ ہزار سال قدیم آثار کی دریافت
چٹانوں پر ثمودی نقوش قدیم تہذیبوں کی گواہی بن گئے
سعودی عرب کی ہیریٹیج اتھارٹی نے السودہ چوٹیوں کے منصوبے کے علاقے میں کیے گئے آثار قدیمہ کے سروے کے نتائج کا اعلان کیا ہے جہاں 20 ایسی چٹانوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر قدیم نقوش کندہ ہیں۔ لسودہ چوٹیاں سعودی عرب کی بلند ترین چوٹی پر واقع ایک پہاڑی سیاحتی مقام ہے جو جنوب مغربی مملکت کے عسیر ریجن میں واقع ہے۔
یہ مقامات علاقے کے قدیم ترین ثقافتی شواہد میں شمار کیے جاتے ہیں کیونکہ ان میں موجود نقوش اور چٹانی تصاویر کی عمر کا اندازہ چار ہزار سے پانچ ہزار سال کے درمیان لگایا گیا ہے۔ یہ دریافت اس خطے میں آباد رہنے والی قدیم تہذیبوں کے گہرے تمدنی اور ثقافتی پہلو کو نمایاں کرتی ہے۔ منصوبے کا رقبہ 636 اعشاریہ 5 مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے جس میں السودہ اور رجال ألمع گورنریٹ کے بعض حصے شامل ہیں۔
ان چٹانوں پر ثمودی نقوش کے ساتھ ساتھ پہاڑی بکرے، لکڑبگھے اور شتر مرغ جیسے جانوروں کی تصاویر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ شکاریوں، رقص کرتے افراد، کھجور کے درختوں اور ہتھیاروں کے مناظر بھی کندہ کیے گئے ہیں۔ یہ نقوش اس دور کی تہذیبوں کے ماحولیاتی اور سماجی طرزِ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ السودہ اور رجال ألمع کے علاقے ہزاروں برس تک ثقافتی طور پر آباد رہے۔
یہ آثار قدیمہ کا سروے سعودی ہیریٹیج اتھارٹی اور السودہ ڈیولپمنٹ کمپنی کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت انجام دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق منصوبے کے علاقے میں چار سائنسی مراحل پر مشتمل سروے اور کھدائی کا کام کیا جا رہا ہے۔ ان مراحل کا آغاز معلومات کے حصول اور مقامات کے تجزیے سے ہوا جبکہ اختتام قیمتی آثار کی نشاندہی اور دستاویزی ریکارڈ کی تیاری پر کیا گیا تاکہ آئندہ ان کے تحفظ اور ترقی کے اقدامات کیے جا سکیں۔