ایک اعلیٰ سعودی سفارت کار نے بدھ کو کہا کہ ریاض امریکہ اور ایران کے مابین فوجی کشیدگی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان مذاکرات اور پرامن حل پر زور دیتا ہے۔
سعودی وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ عادل الجبیر نے کہا، "ہم مکالمے پر اور کسی بھی اختلافِ رائے کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔"
صدر ٹرمپ نے ملک گیر مظاہروں کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن پر ایران کو سختی سے "جواب دینے" کا عزم ظاہر کیا جس کے بعد واشنگٹن اور تہران نے ایک دوسرے کو دھمکیاں دی ہیں۔ الجبیر کے تبصرے اسی دوران سامنے آئے ہیں۔
ریاض میں فیوچر منرلز فورم سے خطاب کرتے ہوئے الجبیر نے زور دے کر کہا، مملکت کا خیال ہے کہ عدم استحکام کسی بھی خطے میں ترقی کے امکانات کے لیے معاون نہیں ہوتا۔ "ہمیں امید ہے کہ مسائل اس طریقے سے حل ہو سکتے ہیں۔"
جب ایرانی حکومت کے خاتمے کے امکان اور اس کے بعد کے حالات سے متعلق زور دے کر پوچھا گیا تو الجبیر نے واضح جواب دیا۔
"یہ واقعی ایرانی عوام ہی پر منحصر ہے کہ وہ فیصلہ کریں۔ میں نہیں سمجھتا کہ میں کسی دوسرے ملک کو یہ بتانے کی پوزیشن میں ہوں کہ وہاں حکومت کیسے کی جائے،" انہوں نے کہا اور مزید بتایا کہ سعودی عرب اور تمام دنیا صورتِ حال کو بہت قریب سے دیکھ رہی ہے۔