سعودی وزیر دفاع اور یمنی صدر کی جنوبی مسئلے کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق
سعودی عرب کا یمن کی تعمیر نو کے منصوبے بحالی میں کلیدی کردار ہے: رشاد العلیمی
سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے یمنی صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رشاد العلیمی اور کونسل کے ارکان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں یمنی وزیر اعظم سالم بن بریک اور عدن کے گورنر وزیر مملکت عبدالرحمن الیافعی بھی موجود تھے۔
سعودی وزیر دفاع نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ صدارتی کونسل کے ارکان سے ملاقات میں جنوبی مسئلےکے مستقبل کے حوالے سے ریاض کانفرنس کے ذریعے کوششیں جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ منصفانہ حل کے لیے ایک جامع تصور تیار کیا جا سکے۔
ملاقات کے دوران یمن کی صورتحال میں ہونے والی تازہ پیش رفت اور یمن بحران کے خاتمے کے لیے جامع سیاسی حل کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ ملک میں امن اور استحکام حاصل کیا جا سکے۔
سعدتُ بلقاء فخامة رئيس مجلس القيادة الرئاسي اليمني، وأعضاء المجلس، ودولة رئيس مجلس الوزراء، ومعالي وزير الدولة محافظ محافظة عدن.
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) January 14, 2026
نقلتُ لهم تحيات القيادة -أيَّدها الله-، وتمنياتها للجمهورية اليمنية وشعبها الشقيق الأمن والاستقرار والازدهار. pic.twitter.com/EIYGA9eWxX
شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ انہوں نے یمنی قیادت کو آگاہ کیا کہ سعودی قیادت کی ہدایات کے تحت مملکت یمن کے برادر عوام کے لیے معاشی مدد اور ترقیاتی منصوبوں اور پروگراموں کا پیکج مختلف یمنی صوبوں میں جاری رکھے گی۔
سعودی عرب یمن میں امن ،سکیورٹی ،استحکام اور خوشحالی کے قیام کے لیے کوشاں ہے اور ملک کو تنازعات کے مرحلے سے نکال کر استحکام اور سکیورٹی کے دور میں داخل کرنے کے ساتھ ساتھ یمنی عوام کے بہتر مستقبل کی امنگوں کو پورا کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔
أكدت لهم استمرار دعم المملكة بتوجيهات القيادة -أيدها الله- بتقديم دعمٍ اقتصادي وحزمة مشاريع وبرامج تنموية للشعب اليمني الشقيق، عبر @SaudiDRPY في مختلف المحافظات اليمنية.
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) January 14, 2026
يجسّد هذا الدعم حرص المملكة على تعزيز الأمن والاستقرار، والمساهمة في بناء مستقبلٍ أفضل لليمن وشعبه الشقيق. pic.twitter.com/5QjzgEVLte
دوسری جانب یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی نے سعودی وزیر دفاع سے اپنی ملاقات کو نتیجہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں قومی صورتحال کی تازہ پیش رفت اور سعودی عرب کی جانب سے یمن کی اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت حمایت پر گفتگو ہوئی جو ریاستی اداروں کی بحالی، امن استحکام اور سلامتی کے حوالے سے یمنی عوام کی توقعات پر پورا اترتی ہے۔
سعودی عرب نے یمن کو اب تک ایک ارب نوے کروڑ سعودی ریال تک کا ترقیاتی تعاون فراہم کیا ہے۔ آج سعودی پروگرام برائے ترقی و تعمیر یمن نے مختلف یمنی صوبوں میں 28 ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات پر مشتمل ایک نئے پیکج کا آغاز کیا جو بنیادی اور اہم شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں تاکہ ملک کے استحکام کو تقویت دی جا سکے۔
عقدنا هذا اليوم لقاءً مثمرا مع أخي صاحب السمو الملكي الأمير خالد بن سلمان بن عبدالعزيز@kbsalsaud ، حول مستجدات الأوضاع الوطنية، والدعم الواعد من المملكة العربية السعودية الشقيقة، في إطار شراكة استراتيجية،تلبي تطلعات الشعب اليمني في استعادة مؤسسات الدولة،والأمن والاستقرار، والسلام pic.twitter.com/uIV1dI7uud
— د/ رشاد محمد العليمي (@PresidentRashad) January 14, 2026
شہزادہ خالد بن سلمان نے وضاحت کی کہ یہ تعاون یمن اور اس کے برادر عوام کے لیے بہتر مستقبل کی تعمیر میں سعودی عرب کی سکیورٹی اور استحکام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اسی تناظر میں ڈاکٹر رشاد العلیمی نے کہا کہ سعودی پروگرام برائے ترقی و تعمیر یمن کے تحت مختلف صوبوں میں اعلان کردہ ترقیاتی منصوبے بحالی اور تعمیر نو کے مرحلے کی بنیادی بنیاد ہیں اور خدمات اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کے لیے وسیع تر پروگراموں کا پیش خیمہ ہیں جو یمنی ریاست کی ہر سطح پر حمایت کے سعودی عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔
عقدنا هذا اليوم لقاءً مثمرا مع أخي صاحب السمو الملكي الأمير خالد بن سلمان بن عبدالعزيز@kbsalsaud ، حول مستجدات الأوضاع الوطنية، والدعم الواعد من المملكة العربية السعودية الشقيقة، في إطار شراكة استراتيجية،تلبي تطلعات الشعب اليمني في استعادة مؤسسات الدولة،والأمن والاستقرار، والسلام pic.twitter.com/uIV1dI7uud
— د/ رشاد محمد العليمي (@PresidentRashad) January 14, 2026
قبل ازیں ریاض نے ڈاکٹر رشاد العلیمی کی درخواست پر مثبت ردعمل دیا تھا جس میں جنوبی یمن کے تمام فریقین کو ریاض میں ایک جامع کانفرنس میں جمع کر کے جنوبی مسئلے کے منصفانہ حل پر مکالمہ کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
ریاض جنوبی مسئلے کو ایک منصفانہ معاملہ سمجھتا ہے جس کے تاریخی اور سماجی پہلو ہیں اور اس کے حل کا واحد راستہ یمن میں جامع سیاسی حل کے تحت مکالمہ ہے۔ سعودی عرب یمن کی سکیورٹی استحکام اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرتا ہے اور صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی اور ان کی حکومت کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کرتا ہے۔