موساد کے ایجنٹ کے طور پر لبنانیوں کو اغوا کرنے میں ملوث چار ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنان کے سیکیورٹی اداروں کے زیر حراست چار ایسے ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی مدد کرتے ہوئے لبنانی شہریوں کے اغوا میں حصہ لیا تھا اور ریٹائرڈ لبنانی فوجی افسر کے بھائی کو اغوا کیا تھا۔ جس پر الزام تھا کہ وہ اسرائیلی فضائیہ کے ایک ایئرمین کے لاپتہ کرنے میں ملوث ہے۔

اسرائیل نے لبنان میں اپنی موساد کے ذریعے مقامی لوگوں کو کام کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ مقامی جاسوسوں کے طور پر اس کی مدد کریں۔

لبنانی حکام نے ایسے درجنوں افراد کو اسی شبہ کی بنیاد پر گرفتار کر رکھا ہے کہ وہ اسرائیل کے جاسوس بن کر لبنان میں اپنے ہی لوگوں کو اغوا کرتے ہیں اور اسرائیل کے کہنے پر کارروائیاں کرتے ہیں۔

لبنانی حکام یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ لبنان میں ریٹائرڈ فوجی افسر احمد شکور سمیت کئی افراد کی گمشدگی کے پیچھے اسرائیل کی اس طرح کی جاسوسی کارروائیاں بروئے کار ہیں۔

احمد شکور کے بھائی پر اسرائیل شبہ کرتا ہے کہ اس نے 1986 میں لبنانی افسر ہونے کے ناطے ایک اسرائیلی فوج کے ایئرمین رون ایریڈ کو مبینہ طور پر پکڑ لیا تھا۔ یہ اسرائیلی ایئرمین بیکا کے علاقے میں مشرقی لبنان میں لاپتہ ہوا تھا۔

لبنانی حکام نے ابھی گرفتار کیے گئے مبینہ موساد معاون لبنانی پر مقدمہ شروع کیا ہے۔ جبکہ باقیوں پر ابھی مقدمہ چلایا جانا ہے۔

چار افراد پر الزام ہے کہ وہ موساد کو لبنان میں رہتے ہوئے اطلاعات فراہم کرتے ہیں اور اس کے لیے کام کرتے ہیں۔ بدلے میں اسرائیل انہیں رقومات دیتا ہے۔

عدالتی حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ احمد شکور کے اغوا میں ملوث شخص کے خلاف مقدمہ شروع ہوگیا ہے۔

اس کے علاوہ تین لبنانی افراد میں ایک خاتوں شامل ہے جبکہ ایک فرانس کی شہریت رکھنے والا لبنانی شامل ہے اور ایک شام کا باشندہ ہے جس کے پاس سویڈن کی شہریت ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی ایئرمین رون ایریڈ کا طیارہ لبنان کے علاقے میں بہت نچلی پرواز پر تھا جب اس پر قابو پا لیا گیا۔ تاہم یہ گرفتاری کے بعد 1990 میں ہلاک ہوگیا۔ اس کی باقیات لبنان نے کبھی بھی اسرائیل کو واپس نہیں کیں۔

جبکہ جاسوسوں کے ذریعے لاپتہ کیے گئے احمد شکور کے بھائی اور لبنانی افسر کو اسرائیلی فوج نے 1988 میں شہید کیا تھا۔ اس کے خاندان نے بھی مقدمہ کے بارے میں کہا ہے کہ وہ ابھی اس پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں