سردی کا موسم برقرار، رمضان میں سرد موسم کی پیشگوئی

ماہر موسمیات کے مطابق رمضان کا بڑا حصہ موسمی اور فلکیاتی اعتبار سے سردیوں میں آئے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

موسم اور آب و ہوا کے محقق عبدالعزیز الحصینی نے تصدیق کی ہے کہ رواں سال سردیوں کا موسم مختلف انداز میں تاحال جاری ہے جبکہ آنے والے رمضان المبارک کے بیشتر ایام عملاً موسم سرما ہی میں آئیں گے، چاہے عربی تقویم کو دیکھا جائے یا فلکیاتی حسابات کو دونوں اعتبار سے رمضان کا بیشتر حصہ سردیوں میں ہوگا۔

عبدالعزیز الحصینی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں وضاحت کی کہ عربوں کے موسمی کیلنڈر کے مطابق سردیوں کا اختتام عقرب دوم کے خاتمے کے ساتھ ہفتہ 18 رمضان 1447ھ بمطابق 7 مارچ سنہ 2026ء کو ہوگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان المبارک کا تقریباً دو تہائی حصہ روایتی عرب موسمی تصور کے مطابق سردیوں میں آئے گا۔

سردی رمضان کے بعد تک جاری رہے گی

فلکیاتی اعتبار سے عبدالعزیز الحصینی نے بتایا کہ سردیوں کا موسم 2 شوال 1447ھ بمطابق 21 مارچ سنہ 2026ء کو ختم ہوگا، یوں اس سال رمضان المبارک تقریباً مکمل طور پر فلکیاتی موسم سرما میں گزرے گا۔ یہ ایک غیر معمولی موسمی صورتحال ہے جو ماہ صیام کے دوران معمول سے زیادہ سرد موسم کا سبب بن سکتی ہے۔

اسی تناظر میں قومی مرکز برائے موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ تیز اور گرد آلود ہوائیں مشرقی مغربی اور جنوب مغربی علاقوں کے پہاڑی حصوں پر اپنا اثر برقرار رکھیں گی۔ اس کے علاوہ مدینہ منورہ، حائل، القصیم، ریاض اور مشرقی خطے کے شمالی حصے بھی اس صورتحال سے متاثر رہیں گے۔

مرکز نے بتایا کہ گرد و غبار کے طوفان بعض سڑکوں اور کھلے علاقوں میں افقی حد نگاہ کو متاثر کرسکتے ہیں۔

قومی مرکز برائے موسمیات کے مطابق مذکورہ علاقوں کے بعض حصوں میں وقفے وقفے سے بارش کا امکان بھی موجود ہے جبکہ الجوف اور شمالی سرحدی علاقوں میں رات اور علی الصبح دھند بننے کا خدشہ ہے، جس کے باعث سفر اور آمد و رفت کے دوران احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں