غزہ کی انتظامی کمیٹی نے قاہرہ سے کام شروع کردیا، ایک ہی اتھارٹی کے قیام پر زور

غزہ کی تعمیر نو صرف انفراسٹرکچر نہیں بلکہ باوقار اور مستحکم معاشرے کی ازسرنو تشکیل ہے:ڈاکٹر علی شعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ پٹی کی انتظامی کمیٹی نے قاہرہ میں اپنے کام کا آغاز کردیا، جسے غزہ میں استحکام کے قیام اور تعمیر نو کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ کمیٹی کی سربراہی ڈاکٹر علی شعث کر رہے ہیں۔

اجلاس کے دوران باضابطہ طور پر کمیٹی کو شہری امور اور اندرونی سکیورٹی کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں، جبکہ غزہ کے استحکام، بحالی اور تعمیر نو کی نگرانی بھی اسی کے سپرد کی گئی ہے۔ یہ انتظام اس وقت تک جاری رہے گا جب تک فلسطینی اتھارٹی اپنے اصلاحاتی پروگرام کی تکمیل نہیں کرلیتی۔

افتتاحی اجلاس میں جاری بیان میں ڈاکٹر علی شعث نے قومی کمیٹی کے قیام کو ایک فیصلہ کن لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک الم ناک دور کے خاتمے اور ایک نئے باب کے آغاز کی علامت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک فلسطینی ادارہ ہے جو فلسطینیوں نے فلسطینیوں کے لیے قائم کیا ہے اور اسے فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن، فلسطینی اتھارٹی اور مختلف فلسطینی دھڑوں کی حمایت حاصل ہے۔

ڈاکٹر شعث نے زور دے کر کہا کہ غزہ کی تعمیر نو صرف بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد ایک ایسے معاشرے کی تشکیل نو ہے جو استحکام، وقار اور منصفانہ پائیدار امن سے وابستہ ہو۔

یہ کمیٹی فلسطینی ماہرین اور پیشہ ور افراد پر مشتمل ہے جو عبوری انتظامیہ کی قیادت کریں گے۔ ارکان میں عبد الکریم عاشور بطور زرعی امور کے کمشنر، عمر شمالی مواصلات اور ڈیجیٹل خدمات کے کمشنر، عائد ابو رمضان معیشت، صنعت اور تجارت کے کمشنر، ڈاکٹر جبر الداعور تعلیم کے کمشنر، ڈاکٹر بشیر الریس مالیات کے کمشنر، ڈاکٹر عائد یاغی صحت کے کمشنر، سامی نسمان داخلہ اور اندرونی سکیورٹی کے کمشنر، عدنان ابو وردہ انصاف کے کمشنر، اسامہ السعداوی اراضی اور رہائش کے کمشنر، ہناء ترزی سماجی تحفظ کی کمشنر اور ڈاکٹر علی برہوم پانی، سہولیات اور مقامی اداروں کے کمشنر شامل ہیں۔

اپنے پہلے باضابطہ اقدام کے طور پر ڈاکٹر علی شعث نے قومی کمیٹی کے مشن کے اعلامیے کی منظوری دی، جس میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی روشنی میں کمیٹی غزہ کے عبوری مرحلے کو مستقل فلسطینی خوشحالی کی بنیاد بنانے کے لیے کام کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی سربراہی میں قائم امن کونسل کی ہدایات اور غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے کی معاونت سے کمیٹی کا ہدف صرف انفراسٹرکچر کی بحالی نہیں بلکہ غزہ کی اجتماعی روح کی تعمیر نو بھی ہے۔

ڈاکٹر شعث کے مطابق کمیٹی امن کے قیام، بجلی، پانی، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی خدمات کی بحالی اور جمہوریت، انصاف اور امن پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی دیانتداری اور شفافیت کے اعلیٰ ترین معیار کے تحت ایک ایسی پیداواری معیشت کی بنیاد رکھے گی جو بے روزگاری کے بجائے سب کے لیے مساوی مواقع فراہم کرے۔ ان کے بقول امن کو اختیار کرتے ہوئے حقیقی فلسطینی حقوق اور حقِ خود ارادیت کے حصول کی راہ ہموار کی جائے گی۔

کمیٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فیصلہ کن قیادت پر اظہارِ تشکر کیا اور مصر، قطر اور ترکیہ سمیت علاقائی شراکت داروں کے کلیدی کردار کو سراہا، جن کی ثالثی اور تعاون کو حالات کے استحکام میں بنیادی ستون قرار دیا گیا۔

تقرری کے فوری بعد کمشنرز نے انسانی امداد کے دائرہ کار کو وسعت دینے، عوامی خدمات کی بحالی، اہم انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور ایک ہی اختیار، ایک ہی قانون اور ایک ہی سکیورٹی ڈھانچے کے اصول کے تحت عدالتی اور سکیورٹی اداروں کی تشکیل نو کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے، تاکہ طویل المدتی معاشی ترقی، پائیدار حکمرانی اور پورے غزہ میں خود اختیاری کی بنیاد رکھی جاسکے۔

اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے غزہ کے عوام کے ساتھ اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے ادارے قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے جو تمام فلسطینیوں کو وقار، انصاف اور امید فراہم کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں