مظاہروں کے تناظر میں اب تک کسی کو سزائے موت نہیں سنائی گئی: ایرانی عدلیہ
مظاہروں میں شریک کچھ لوگ موساد اور سی آئی اے سے تعلق رکھنے والے کرائے کے ایجنٹ ہیں: عدلیہ
ایران کی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ حال ہی میں پھوٹنے والے حکومت مخالف عوامی احتجاج کے سلسلے میں اب تک سزائے موت کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔ یہ بات ایرانی سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن نے بتائی ہے۔
عدلیہ کے ترجمان نے کہا کہ قانونی کارروائی کا عمل سخت اور طویل ہے جس میں مہینوں یا سال لگ سکتے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ احتجاج میں شامل کچھ لوگ کرائے کے کارندے ہیں جن کے تعلقات اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی "موساد" اور امریکی ایجنسی "سی آئی اے" سے ہیں۔
ترجمان کے مطابق عدلیہ گمراہ ہونے والے مظاہرین اور اصل اشتعال انگیزی کرنے والوں کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سخت سزائیں صرف کافی ثبوتوں کی دستیابی کے بعد ہی دی جائیں گی۔
اسی تناظر میں ایرانی پراسیکیوٹر جنرل علی صالحی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران نے زیرِ حراست سینکڑوں مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا ہے۔
علی صالحی نے کہا کہ مظاہروں کا جواب فیصلہ کن، عبرت ناک اور فوری ہوگا۔ یاد رہے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ہفتے کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان واقعات کے ذمہ دار سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔ ہم فسادیوں کی کمر توڑ دیں گے۔
-
ایرانی عدلیہ: احتجاج کرنے والے عرفان سلطانی کو سزائے موت نہیں دی جائے گی
دس جنوری کو مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے 26 سالہ ایرانی شہری عرفان سلطانی کو ...
مشرق وسطی -
ایران میں احتجاج کرنے والوں کی ہلاکتوں میں کمی آئی ہے : ٹرمپ
امریکی صدر کے مطابق اس وقت ایران میں وسیع پیمانے پر سزائے موت پر عمل درآمد کا کوئی ...
بين الاقوامى -
ایران میں احتجاج پر کریک ڈاؤن: یورپی یونین کی برسلز میں ایرانی سفیر کی طلبی
کئی ایرانی مظاہرین کو سزائے موت کا خدشہ
بين الاقوامى