مشہور ترین مسکن دوا کے بارے میں شکوک و شبہات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایسیٹامینوفین جسے پیراسیٹامول بھی کہا جاتا ہے، درد کم کرنے اور بخار اتارنے کے لیے دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ادویات میں شمار ہوتی ہے۔ یہ مختلف معروف تجارتی ناموں جیسے ٹائلینول اور پیناڈول کے تحت فروخت کی جاتی ہے۔

تاہم ایک سائنسی تحقیق نے اس دوا کے اثرات سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سائنسی ویب سائٹ ScienceAlert کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ دوا صرف درد ہی کم نہیں کرتی بلکہ انسانوں کے خطرات کو جانچنے کے انداز کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

امریکا کی اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کی قیادت میں کی گئی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایسیٹامینوفین کا استعمال کرنے والے افراد زیادہ خطرناک رویے اختیار کرنے کے لیے زیادہ آمادہ ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ دوا کے استعمال سے خوف یا بے چینی کا احساس کم ہو جاتا ہے جو عام طور پر خطرات سے جڑا ہوتا ہے۔

مطالعے میں شامل اعصابیات کے ماہر بالڈون وے کے مطابق ایسیٹامینوفین خطرناک حالات کے بارے میں سوچتے وقت منفی جذبات کو کم کر دیتا ہے۔

ان کا کہنا ہے:جو افراد یہ دوا استعمال کرتے ہیں، وہ کسی خطرناک سرگرمی کا جائزہ لیتے وقت اتنا خوف محسوس نہیں کرتے جتنا وہ لوگ کرتے ہیں جنہوں نے یہ دوا نہیں لی ہوتی۔

یہ دریافت اس لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کہ امریکا کی تقریباً چوتھائی آبادی ہر ہفتے ایسیٹامینوفین استعمال کرتی ہے، جبکہ یہ دوا 600 سے زائد ایسی ادویات کا حصہ ہے جو بغیر نسخے کے فروخت کی جاتی ہیں۔

غبارہ پھلانے کا تجربہ

اس تحقیق میں 500 سے زائد یونیورسٹی طلبہ نے حصہ لیا، جنہیں بے ترتیب طور پر دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کو ایسیٹامینوفین (پیراسیٹامول) کی 1000 ملی گرام خوراک دی گئی، جو بالغ افراد کے لیے ایک وقت میں تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ مقدار ہے، جبکہ دوسرے گروپ کو فرضی دوا (پلیسبو) دی گئی۔

شرکا سے ایک ورچوئل تجربہ کروایا گیا جس میں کمپیوٹر اسکرین پر غبارہ پھلانا ہوتا ہے۔ ہر بار غبارہ پھلانے پر شرکا کو فرضی مالی انعام ملتا ہے، لیکن اگر غبارہ پھٹ جائے تو وہ سب کچھ کھو دیتے ہیں۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ جن افراد نے ایسیٹامینوفین لی تھی، انہوں نے زیادہ دیر تک غبارہ پھلانا جاری رکھا، جو دوسرے گروپ کے مقابلے میں زیادہ خطرناک فیصلوں کی علامت ہے۔

اس تجربے کے علاوہ شرکا سے مختلف فرضی حالات میں خطرے کی سطح جانچنے کو کہا گیا، جیسے بنچی جمپنگ کرنا، بغیر سیٹ بیلٹ کے گاڑی چلانا، یا بڑی رقم پر شرط لگانا۔ ایک سوالنامے میں یہ بات سامنے آئی کہ ایسیٹامینوفین استعمال کرنے والوں نے ان حالات کو نسبتاً کم خطرناک قرار دیا، اگرچہ تمام آزمائشوں میں یہ اثر یکساں طور پر ظاہر نہیں ہوا۔

ان نتائج کے باوجود محققین نے اس بات پر زور دیا کہ مشاہدہ کیے گئے اثرات محدود نوعیت کے تھے اور یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہ لازمی طور پر روزمرہ زندگی میں لوگوں کے رویّوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق ان نتائج کی بنیادی وجہ خطرہ مول لینے کی خواہش میں اضافہ نہیں بلکہ بے چینی یا خوف میں کمی ہو سکتی ہے۔محققین نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایسیٹامینوفین جیسی عام طور پر استعمال ہونے والی ادویات کے ممکنہ نفسیاتی اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، خاص طور پر اس کے عالمی سطح پر وسیع استعمال کے پیش نظر۔ان تمام سوالات کے باوجود، ایسیٹامینوفین اب بھی عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے منظور شدہ بنیادی ادویات میں شامل ہے اور تجویز کردہ مقدار میں استعمال کرنے پر اسے محفوظ اور مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ نتائج عام ادویات کے انسانی رویّے اور فیصلہ سازی پر ممکنہ غیر متوقع اثرات کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں