کیا انسانوں کے رویّوں میں حالیہ دنوں میں تبدیلی آئی ہے؟… سائنس کی وضاحت
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ منفی اور خراب رویّوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ Science Alert کی ایک رپورٹ کے مطابق روز بروز کئی طرح کے رویّے زیادہ عام ہوتے جا رہے ہیں، جیسے دکانوں سے کھلم کھلا چوری کرنا، عوامی ذرائعِ آمد و رفت میں اونچی آواز میں موسیقی سننا، حتیٰ کہ ریٹیل سیکٹر میں کام کرنے والے ملازمین کے خلاف تشدد کے واقعات۔ ان رجحانات کے باعث بہت سے افراد دوسروں کے بارے میں مایوسی اور بداعتمادی محسوس کرنے لگے ہیں۔
وبا سے پہلے کی سطحیں
بول ہانیل جو یونیورسٹی آف ایسکس میں نفسیات کے سینئر لیکچرر ہیں، کے مطابق جون 2023 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ 60 سے زائد ممالک کے شہریوں کا خیال ہے کہ روزمرہ شائستگی اور آداب کے بنیادی اصول بتدریج کمزور ہو رہے ہیں۔
اسی طرح 2025 میں کیے گئے ایک سروے جس میں 9 ہزار 600 امریکیوں نے حصہ لیا، یہ سامنے آیا کہ 46 فیصد افراد کے نزدیک بدتمیزی مجموعی طور پر بڑھ رہی ہے، جبکہ صرف 9 فیصد نے کہا کہ وبا سے پہلے کے مقابلے میں اس میں کمی آئی ہے۔
غلط تصورات
ہانیل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ تصورات ممکن ہے پوری طرح درست نہ ہوں۔
اپنی تحقیق میں انہوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ لوگ دوسروں کے بارے میں جو تصورات رکھتے ہیں وہ کس حد تک درست ہوتے ہیں، غلط تصورات کے کیا اثرات ہوتے ہیں اور جب ان غلط فہمیوں کی اصلاح کی جاتی ہے تو کیا تبدیلی آتی ہے۔
واضح طور پر اس معاملے میں کچھ غلط تصورات موجود ہیں۔ اگر اُن رائج اقدار اور مجرد اصولوں پر نظر ڈالی جائے جو انسانی رویّوں کی رہنمائی کرتے ہیں، تو معاشرے کے بارے میں پُرامیدی کی وجوہات بھی سامنے آتی ہیں۔
وفاداری اور سچائی کی قدریں
2022 میں کی گئی ایک تحقیق جس میں 49 ثقافتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے 32 ہزار افراد شامل تھے، کے مطابق وفاداری، سچائی اور دوسروں کی مدد جیسی قدریں سب سے بلند مقام پر رہیں، جبکہ طاقت اور دولت جیسی قدریں سب سے نچلے درجے پر پائی گئیں۔
اخلاقی زوال کے دعوؤں کی تردید
یہ نتائج اخلاقی زوال کے دعوؤں کی زیادہ تائید نہیں کرتے۔ یورپی سماجی سروے کے ڈیٹا کی بنیاد پر ماہرِ عمرانیات میکسم رودنیف کی تیار کردہ ایک انٹرایکٹو ٹول سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رجحان 2002 سے 2023 کے درمیان 30 سے زائد یورپی ممالک میں تقریباً یکساں رہا۔
اقدار میں عالمی مماثلت
دیگر مطالعے سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ 60 سے زائد ممالک، مختلف تعلیمی سطحوں اور مذہبی وابستگیوں میں لوگوں کی اقدار بڑی حد تک ایک جیسی ہیں، یعنی مختلف گروہوں کے جوابات میں نمایاں مماثلت پائی جاتی ہے۔
اچھے شہری
متعدد تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ تر لوگ اخلاقی انداز میں ہی برتاؤ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب محققین نے نگرانی کیمروں میں محفوظ حقیقی عوامی تنازعات کا تجزیہ کیا، تو معلوم ہوا کہ دس میں سے نو مواقع پر کسی نہ کسی راہگیر نے مداخلت کر کے صورتحال کو بگڑنے سے روکا (جہاں راہگیر موجود تھے)۔ 2020 کے یہ نتائج نیدرلینڈز، جنوبی افریقہ اور برطانیہ میں یکساں پائے گئے۔
بہادری اور انسانی ہمدردی
لوگ چاقو حملوں یا دہشت گردانہ واقعات میں بھی مداخلت کرتے ہیں، حتیٰ کہ اس عمل میں خود کو خطرے میں ڈال لیتے ہیں۔ اگرچہ ایسے واقعات کم ہوتے ہیں، مگر یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ مشکل حالات میں بھی بہت سے افراد مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔ کم ڈرامائی مواقع پر بھی یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ دوسروں کے جذبات کا خیال رکھتے ہیں۔
دیانت داری کی مثالیں
2019 میں کی گئی ایک تحقیق جس میں 40 میں سے 38 ممالک شامل تھے، یہ بات سامنے آئی کہ اوسطاً گمشدہ بٹوے اس صورت میں زیادہ واپس کیے گئے جب ان میں کچھ رقم موجود تھی، بہ نسبت اس کے کہ وہ خالی ہوں۔ اگر بٹوے میں بڑی رقم ہو تو واپسی کا امکان مزید بڑھ جاتا ہے، غالباً اس احساس کے تحت کہ اس کا نقصان مالک کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔
سخاوت اور عطیات
2023 میں ہونے والے ایک اور تجربے میں سات ممالک سے تعلق رکھنے والے 200 افراد کو تقریباً بغیر کسی شرط کے 10 ہزار امریکی ڈالر دیے گئے۔ شرکاء نے 4 ہزار 700 ڈالر سے زیادہ رقم دوسروں پر خرچ کی اور 1 ہزار 700 ڈالر خیراتی کاموں کے لیے عطیہ کیے۔
بڑھتا ہوا تعاون
ہانیل کے مطابق ممکن ہے کہ 50 یا 100 سال پہلے لوگ اخلاقیات کے معاملے میں زیادہ سخت ہوں، مگر وقت کے ساتھ رویّوں میں منظم تبدیلی پر تحقیق کم ہے۔ البتہ ایک مطالعے سے معلوم ہوا کہ 1950 کی دہائی سے 2010 کی دہائی کے درمیان اجنبیوں کے ساتھ معاملہ کرتے وقت امریکی قدرے زیادہ تعاون کرنے لگے ہیں۔
سوشل میڈیا کا کردار
اس کے باوجود بہت سے لوگ معاشرے کو اخلاقی زوال کا شکار سمجھتے ہیں، جس کی ایک وجہ میڈیا کا منفی واقعات پر زیادہ توجہ دینا اور سوشل میڈیا پر منفی خبروں کا تیزی سے پھیلنا ہے۔
مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ قدرتی آفات کے دوران میڈیا اکثر خوف اور سختی کو نمایاں کرتا ہے، حالانکہ حقیقت میں لوگ عموماً ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔
آن لائن آوازوں کی عدم نمائندگی
مزید یہ کہ سیاسی طور پر انتہائی نظریات رکھنے والے افراد، چاہے بائیں بازو کے ہوں یا دائیں بازو کے، سوشل میڈیا پر زیادہ متحرک ہوتے ہیں، اسی طرح بیرونی ممالک کے خودکار اکاؤنٹس بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی آراء عام لوگوں کی حقیقی نمائندگی نہیں کرتیں۔
انفرادی رویّے
یقیناً اس کا یہ مطلب نہیں کہ چند افراد سنگین نقصان نہیں پہنچا سکتے یا بعض مسائل، جیسے بچوں کے خلاف آن لائن بدسلوکی میں اضافہ نہیں ہو سکتا۔ تاہم یہ رجحانات عام فرد کے رویّے یا اقدار کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔
حد سے زیادہ بدگمانی کا نقصان
دوسروں کے بارے میں ضرورت سے زیادہ مایوسی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ غلط طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے زیادہ خود غرض اقدار رکھتے ہیں، وہ اوسطاً کم رضاکارانہ خدمات انجام دیتے ہیں۔
زیادہ اعتماد اور اُمید
متعدد تجربات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ جب لوگوں کو بتایا جائے کہ دوسرے بھی اوسطاً ملتی جلتی اقدار اور عقائد رکھتے ہیں، تو ان میں مستقبل کے بارے میں اعتماد اور اُمید بڑھ جاتی ہے۔ دوسروں سے بات چیت، چاہے وہ دوست ہوں یا اجنبی، مجموعی طور پر خوشگوار احساس اور بہتر ذہنی کیفیت کا باعث بنتی ہے۔
سماجی سرگرمیوں کی اہمیت
رضاکارانہ خدمات انجام دینا مقامی گروہوں میں شامل ہونا یا محلّے کی سرگرمیوں میں شرکت کرنا فائدہ مند ہے، کیونکہ دوسروں کی مدد کرنے سے خود انسان کا احساسِ مسرت بہتر ہوتا ہے۔ اسی طرح مثبت خبروں کا مطالعہ یا دوسروں کی مہربانی پر توجہ دینا زندگی کے بارے میں نقطۂ نظر کو بہتر بناتا ہے۔
خود غرضی سے پاک بہتر مستقبل
آخر میں ہانیل نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ شواہد اس بات کی نشاندہی نہیں کرتے کہ معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہو رہا ہے، اگرچہ بعض منفی رویّوں میں اضافہ ضرور نظر آتا ہے۔ اگر لوگ یہ سمجھ کر ایک دوسرے سے بات چیت اور مدد کرنا چھوڑ دیں کہ دوسرے انہیں نقصان پہنچائیں گے، تو واقعی خود غرضی بڑھ سکتی ہے اور زوال آ سکتا ہے۔ خوش قسمتی سے معاشرے کے طور پر لوگ اپنے مستقبل کو بہتر بنانے اور اس پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔