ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کو دو ہفتوں سے زائد عرصہ ہو گیا

انٹرنیٹ چلتا ہے لیکن بہت مختصر وقت کے لیے اور صرف مخصوص سائٹس قابلِ رسائی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک نگراں ادارے نے جمعرات کو بتایا کہ ایران میں حکام کی جانب سے پورے ملک میں انٹرنیٹ کی بندش کو دو ہفتوں سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش کا مقصد حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے حقیقی پیمانے اور ہلاکتوں کو چھپانا ہے۔

"ایران اب پورے دو ہفتوں سے انٹرنیٹ کی ملک گیر بندش کی زد میں ہے،" نیٹ بلاکس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا۔

حالیہ دنوں میں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کافی صارفین کبھی کبھار اور وقفے وقفے سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں لیکن نگراں ادارے نے اشارہ کیا کہ یہ بہت مختصر مدت کے لیے اور حکومت کی منظور شدہ سائٹس اور ٹریفک تک محدود تھا۔

ادارے نے کہا، "336 گھنٹوں کے بعد انٹرنیٹ رابطے کی سطح میں صرف معمولی اضافہ ہوتا ہے جس سے حکومتی منظور شدہ سائٹس تک رسائی ممکن ہوتی ہے ورنہ زیادہ تر بند رہتا ہے۔"

ادارے نے مزید کہا، "بعض صارفین اب بیرونی دنیا تک رسائی کے قابل ہیں" لیکن اس کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع کی وضاحت نہیں کی۔

پہلی بار سرکاری تعداد بتاتے ہوئے ایرانی حکام نے بدھ کے روز کہا کہ مظاہروں کی لہر کے دوران 3,117 افراد ہلاک ہوئے۔

جاں بحق اور سابق فوجیوں کے لیے ایران کی فاؤنڈیشن کے بیان میں "جاں بحق" جن کے بارے میں اس نے کہا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ارکان یا بے گناہ راہگیر تھے اور ان لوگوں میں فرق کرنے کی کوشش کی گئی ہے جنہیں اس نے امریکی حمایت یافتہ "فسادی" قرار دیا۔

اس کے بیان کردہ 3,117 افراد میں سے 2,427 لوگ "جاں بحق " تھے۔

تاہم انسانی حقوق کے گروپوں کا خیال ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کی وجہ سے بھاری جانی نقصان ہوا اور یہ کہ ہلاک شدگان کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ اور 20,000 سے متجاوز ہو سکتی ہے۔

حقوق کے گروپوں نے شکایت کی ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش نے دانستہ ان کے کام میں رکاوٹ پیدا کی ہے اور کریک ڈاؤن کے اصل پیمانے اور حقائق چھپ گئے ہیں۔

انٹرنیٹ کی بندش آٹھ جنوری کی شام کو ہوئی جب کئی بڑے شہروں میں سخت گیر مولوی حکام کو صریحاً چیلنج کرنے وسیع احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں