امریکہ شام سے مکمل فوجی انخلا پر غور کر رہا ہے: وال اسٹریٹ جرنل

امریکی فوجی موجودگی کو کم کرنے کے متعدد منظرنامے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن شام میں تیز رفتاری سے رونما ہونے والی پیش رفت کے پیش نظر وہاں سے مکمل فوجی انخلاء کے امکان پر غور کر رہا ہے۔

اخبار نے اپنے رپورٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا کہ "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" کو پہنچنے والی شکست نے امریکی محکمہ دفاع کو شام میں امریکی فوجی مشن کی افادیت پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندر جاری غور و خوض میں متعدد ممکنہ منظر نامے شامل ہیں، جن میں امریکی فوجی موجودگی کو کم کرنے سے لے کر مکمل انخلاء تک کے آپشنز ہیں، جبکہ اس کے اثرات کا جائزہ داعش کے خلاف اقدامات، شمال اور مشرقی شام میں سیکیورٹی توازن، اور علاقائی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر بھی لیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا اور مباحثے اب بھی سیکیورٹی اور سیاسی تخمینوں سے جڑے ہوئے ہیں، جن میں مقامی فورسز کے ساتھ مستقبل کا رابطہ، انتہا پسندی کے گروہوں کے دوبارہ ابھرنے کے خطرات، اور مشرق وسطی میں امریکی کردار سے متعلق وسیع تر امور شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکام نے بتایا کہ شام کی سرکاری فورسز امریکی فورسز کے کچھ مقامات کے انتہائی قریب پہنچ گئی ہیں جہاں کُردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران امریکی اہل کار موجود تھے، اور کم از کم ایک امریکی ڈرون کو اپنی تنصیبات کے قریب گرایا گیا۔

ایک اہل کار نے مزید کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران، شام کی فورسز نے "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (ایس ڈی ایف) کے کیمپوں پر حملہ کیا، جو ایسے بنیادی مراکز میں واقع ہیں جہاں امریکی موجودگی ہے۔

چند روز قبل امریکہ نے تقریباً 9 ہزار قیدیوں میں سے 7 ہزار قیدیوں کو عراق منتقل کرنا شروع کیا تھا، اس خدشے کے پیش نظر کہ سابق جنگجو اور ان کے خاندان کے افراد حکومت کی جانب سے قید خانوں پر کنٹرول کے دوران فرار ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size