اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے شام اور لبنان کی سرحد کے ساتھ واقع چار سرحدی راستوں کو نشانہ بنایا ہے، جنہیں حزب اللہ کی جانب سے جنگی سازوسامان کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے ہرمل کے علاقے میں شام اور لبنان کی سرحد پر واقع چار راستوں پر فضائی حملے کیے، جنہیں حزب اللہ اسلحہ اور جنگی وسائل کی ترسیل کے لیے استعمال کر رہا تھا۔
ادرعی نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر صیدا کے علاقے میں ایک فضائی حملے کے ذریعے محمد عوضہ نامی شخص کو ہلاک کیا، جسے حزب اللہ کے اندر اسلحے کا مرکزی تاجر اور اسمگلر قرار دیا جاتا ہے۔
جنگ بندی کے باوجود حملے جاری
یہ بات قابل ذکر ہے کہ نومبر سنہ 2024ء میں حزب اللہ کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود، جس نے ایک سال سے زائد عرصے پر محیط جنگ کا خاتمہ کیا، اسرائیل کی جانب سے لبنان پر فضائی حملے بدستور جاری ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف حزب اللہ کے عناصر، تنصیبات اور اسلحہ کے گودام ہیں، اور وہ حزب اللہ کو جنگ کے بعد اپنی عسکری صلاحیتیں دوبارہ بحال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، کیونکہ جنگ کے دوران اسے عسکری ذخیرے اور قیادت کے ڈھانچے کے حوالے سے شدید نقصان اٹھانا پڑا۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل کو جنوبی لبنان سے اپنی افواج واپس بلانا تھا، تاہم اس نے 5 ایسے مقامات پر اپنی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے جنہیں وہ اسٹریٹجک قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان ان مقامات سے انخلا کا مطالبہ کر رہا ہے، جیسا کہ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے بتایا۔
حزب اللہ کے اسلحے کے خاتمے کی کوششیں
گذشتہ چند دنوں کے دوران اسرائیل نے سرحدی علاقوں سے دور دراز علاقوں میں بھی وسیع پیمانے پر حملے کیے، یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب لبنانی فوج نے رواں ماہ کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ حزب اللہ کے اسلحے کے خاتمے کے منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل ہو چکی ہے، اس منصوبے کی منظوری حکومت نے دی تھی تاکہ اسلحہ صرف ریاست کے کنٹرول میں رہے۔
لبنانی فوج نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس نے جنوبی لیطانی کے علاقے میں، جو اسرائیلی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، آپریشنل کنٹرول قائم کر لیا ہے، سوائے ان علاقوں اور مقامات کے جو تاحال اسرائیلی قبضے میں ہیں۔
تاہم اسرائیل نے اس اقدام کو ناکافی قرار دیا ہے، اور جنوبی لیطانی میں اسلحہ ہٹانے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے دریا کے شمال میں واقع متعدد علاقوں پر حملے کیے ہیں۔
لبنانی فوج کے منصوبے میں 5 مراحل شامل ہیں، جن میں دوسرے مرحلے کے تحت شمالی لیطانی دریا سے لے کر اولی دریا تک کے علاقے کو شامل کیا گیا ہے، یہ دریا صیدا شہر کے شمال میں جا کر سمندر میں گرتا ہے، صیدا جنوبی لبنان کا سب سے بڑا شہر ہے، یہ علاقہ اسرائیلی سرحد سے تقریباً 60 کلومیٹر اور بیروت سے قریب 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
حکومت کی جانب سے اس منصوبے کے دوسرے مرحلے پر فروری میں غور کیے جانے کی توقع ہے، جس کے بعد اس پر عملدرآمد کا آغاز کیا جائے گا۔