خطے کی تقسیم کی کسی بھی کوشش یا افواج کے متوازی ملیشیائیں قائم کرنے کو مسترد کرتے ہیں

مصری صدر کا کہنا ہے کہ "ہم غزہ کی پٹی کے معاہدے پر عمل درآمد اور جبری بے دخلی کو مسترد کرنے پر زور دیتے ہیں".

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ جن گروہوں نے ملیشیاؤں کو پھیلایا وہ خطے کے ممالک کی تباہی کا سبب بنے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملیشیاؤں کے پھیلاؤ کی وجہ سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوا۔

مصری صدر آج ہفتے کے روز پولیس اکیڈمی میں یومِ پولیس کی تقریب کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے خطے کے ممالک کو تقسیم کرنے، ان کی زمین کا کوئی حصہ الگ کرنے یا فوج کے متوازی ملیشیائیں قائم کرنے کی کسی بھی کوشش کو "قطعی اور فیصلہ کن طور پر مسترد" کرنے پر زور دیا۔

السیسی نے غزہ کی پٹی کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی کے باشندوں کی جبری بے دخلی کا مطلب لاکھوں لوگوں کی یورپ اور مغرب کی طرف ہجرت ہے۔ انہوں نے مزید کہا "ہم غزہ کی پٹی کے معاہدے پر عمل درآمد اور جبری بے دخلی کو مسترد کرنے پر زور دیتے ہیں"۔

السیسی نے مزید کہا "ہم خطے کے ممالک کی تقسیم یا کسی بھی متوازی ادارے کو تسلیم کرنے کو مسترد کرتے ہیں"۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2014 سے اب تک مصر خطے کے کسی بھی ملک کے خلاف کسی سازش، تخریب کاری یا تباہی میں ملوث نہیں رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی نے سنگین فکری اور سکیورٹی چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ مصری صدر کے مطابق جدید چیلنجوں کا مقابلہ صرف سکیورٹی نقطہ نظر سے نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا "اللہ کے فضل سے ہم نے 2022 میں دہشت گردی کی لہر پر قابو پایا ... 2011 سے 2022 تک ہم وطن کے بیٹوں (کے خون) کا بوجھ اٹھاتے رہے"۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصر اپنی قومی سکیورٹی کی براہِ راست خلاف ورزی اور اسے نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں