اسرائیل چاہتا ہے کہ رفح راہداری کھلنے کے باوجود غزہ میں فلسطینیوں کے مزید داخل ہونے کے بجائے ان کے غزہ چھوڑ کر جانے کی حوصلہ افزائی کرے اور فلسطینیوں کے غزہ سے زیادہ سے زیادہ انخلا کو یقینی بنائے۔ یہ بات معاملے سے جڑے تین مختلف ذرائع نے جمعہ کے روز کہی ہے۔ ان ذرائع کے مطابق مصری سرحد سے جڑی اس راہداری سے اسرائیل ان لوگوں کو گزرنے کی زیادہ اجازت دے گا جو غزہ سے نکل کر کسی اور جگہ جانے والے ہوں گے۔
اس سے ایک روز قبل عبوری فلسطینی کمیٹی کے سربراہ علی شاث نے کہا تھا کہ اب غزہ کی رفح راہداری کا کھلنا محض اگلے چند دنوں کی بات ہے۔ علی شاث امریکہ کے حمایت یافتہ سربراہ عبوری کمیٹی برائے غزہ ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ رفح راہداری اگلے دنوں وہ اکلوتی راہداری بن جائے گی جس سے لوگوں کی غزہ میں زیادہ تر آمد و رفت ممکن ہوگی۔
یاد رہے غزہ بیس لاکھ سے زائد فلسطینی کی آبادی کا علاقہ ہے۔ جسے اسرائیل نے حالیہ دو سالہ جنگ کے دوران بد ترین انداز میں اور مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے تاکہ فلسطینیوں کے لیے یہ رہنے کی جگہ نہ رہے۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن بورڈ قائم کرنے کے اعلان کے بعد رفح راہداری کا کھولنا اسرائیل نے بہتر سمجھا ہے۔
رفح راہداری مئی 2024 سے مکمل طور پر اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ تب سے یہ راہداری بند ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال بعد دس سکتوبر 2025 کو جنگ بندی کی گئی تھی۔
امریکی منصوبے پر عمل کے حوالے سے معاہدے کے دوسرے مرحلے کا وقت آگیا ہے۔ اب امریکہ اس پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسرے مرحلے میں اسرائیل سے توقع ہے کہ وہ مزید فوجی انخلا کرے گا اور حماس کے ہتھیار چھوڑنے پر دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔ جیسا کہ امن بورڈ کے سربراہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیواس میں حماس کو سخت ترین دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا حماس نے اسلحہ نہ چھوڑا تو حماس کو اڑا کے رکھ دیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیواس میں جنگیں بند کرانے کے لیے اپنی خدمات کا بھی گرمجوشی سے ذکر کیا۔ وہ پچھلے سال امن کا نوبل انعام لینے کی غیر معمولی کوشش کر چکے ہیں مگر نوبل انعام کمیٹی نے انہیں امن کا پیامبر تسلیم کرنے اور نوبل انعام دینے کا اعلان نہ کیا۔
اب صدر ٹرمپ نے امن بورڈ قائم کیا ہے وہ اس امن بورڈ کے با اختیار سربراہ ہیں۔ انہوں نے دنیا کے کئی رہنماؤں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ البتہ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کانی کو یہ دعوت دینے کے بعد واپس لے لی ہے۔ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان سخت ناراضگی پیدا ہو گئی کہ امریکہ گرین لینڈ کو ہر صورت کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ نیز ٹرمپ نے کینیڈا کے حوالے سے بھی وائٹ ہاوس میں دوسری مدت صدارت کے آغاز پر ہی عزائم ظاہر کر دیے تھے کہ کینیڈا کو امریکہ میں ضم کرنا چاہتے ہیں۔
ادھر امن بورڈ کے ذریعے وہ غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔
رفح راہداری کے کھولے جانے کے عبوری کمیٹی کے سربراہ کے اعلان کے باوجود ابھی تینوں ذرائع کو اس امر کا اندازہ نہیں ہے کہ اسرائیل غزہ میں داخلے کو کس حد تک روکے گا۔
اسرائیل کا ایک عہدیدار ماضی میں کہہ چکا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی غزہ سے باہر جانے کی حوصلہ افزائی کریں گے مگر ان کے غزہ سے انخلا کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔
فلسطینی عوام اس بارے میں بہت حساسیت رکھتے ہیں کہ انہیں عزہ سے نکالا جائے اور اگر کوئی غزہ سے باہر جاتا ہے تو انہیں اس امر کا بھی خدشہ ہے کہ انہیں واپس غزہ میں داخل ہونے سے روکا جائے گا۔
امریکہ نے اسرائیل سے مشاورت کے بعد رفح راہداری کھولنے کا جو منصوبہ اگلے ہفتے سے شروع کرنے کا سوچا ہے اس کے لیے توقع کی جا رہی ہے کہ راہداری کے عملے کا تعلق رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے فراہم کردہ افراد سے ہوگا۔ رفح راہداری کو کھولے جانے سے پہلے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یورپی یونین کے اہلکار راہداری کی نگرانی کے لیے پہنچ جائیں گے۔ جس کے بعد اس کی نگرانی کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے ملازمین لوگوں کی آمد و رفت کا ریکارڈ رکھیں گے اور ان کی شناخت میں مدد دیں گے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفرر نے اس سلسلے میں تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ اسرائیلی فوج نے بھی اس بارے میں تبصرہ کرنے کی بجائے یہ کہا تھا کہ اس پر صرف اسرائیلی حکومت ہی تبصرہ کرے گی اس لیے ان سے پوچھا جائے۔ نیز امریکی سفارتخانہ نے بھی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
اسرائیلی عہدیدار نے کہا جب رفح راہداری کھلے گی تو اسرائیل کی اجازت کے بغیر نہ کوئی فلسطینی غزہ میں داخل ہو سکے گا اور نہ ہی غزہ سے نکل سکے گا۔
تین ذرائع نے کہا اسرائیل اپنی چیک پوسٹ بھی غزہ کی سرحد کے نزدیک قائم رکھنا چاہتا ہے۔ فلسطینیوں کو آنے اور جانے کے لیے اسرائیلی فوج کی قائم کردہ چیک پوسٹ کے سامنے سے گزرنا ہوگا تاکہ حتمی نگرانی اور مرضی اسرائیل ہی کی چلے۔
دو مختلف ذرائع نے بھی کہا اسرائیلی فوج غزہ میں بھی اپنی چیک پوسٹ کو قائم رکھنا چاہتی ہے تاکہ غزہ سے فلسطینیوں کے جانے اور غزہ میں واپس آنے کی نگرانی کا عمل اپنے ہاتھ میں رکھے۔
ٹرمپ کے ابتدائی منصوبے کے مطابق اسرائیلی فوج کو غزہ سے واپس جانا ہے۔ لیکن اس انخلا کے باوجود اسرائیلی فوج غزہ کے 53 فیصد علاقے بشمول مصر سے جڑے سرحدی علاقے کا کنٹرول اپنے پاس رکھے گی۔ جبکہ فلسطینی غزہ کے علاقے میں موجود ہیں جسے اسرائیلی فوج نے بمباری کر کے تباہ کر دیا ہے اور یہ فلسطینی خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔