براہِ راست نشریات میں خودسوزی کی کوشش کرنے والا عراقی نوجوان بچ گیا، پولیس کی وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

صوبہ نینویٰ کی پولیس نے منگل کے روز اس واقعے سے متعلق نئی تفصیلات جاری کیں، جس میں ایک نوجوان نے فیس بک پر براہِ راست نشریات کے دوران خود کو آگ لگا لی تھی۔

پولیس کے مطابق نوجوان جانبر ہو گیا ہے اور اس وقت کردستان ریجن کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہے، جبکہ اس کے خلاف ماضی اور حال میں عدالتی فیصلے بھی صادر ہو چکے ہیں۔

عراقی میڈیا کے مطابق نینویٰ پولیس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ جس نوجوان نے لائیو نشریات میں تیزی سے بھڑکنے والا ایندھن استعمال کرتے ہوئے خود کو آگ لگائی، اس کا تعلق موصل کے جنوب میں واقع علاقے حمام العلیل سے ہے۔

بعد ازاں یہ ویڈیو فیس بک سے حذف کر دی گئی۔ذرائع کے مطابق نوجوان کو فوری طور پر کردستان ریجن کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ اس وقت علاج کروا رہا ہے اور اس کی حالت مسلسل طبی نگرانی میں ہے۔

پولیس نے واضح کیا کہ نوجوان کے خلاف 2021 اور 2022 میں منشیات سے متعلق مقدمات میں عدالتی فیصلے صادر ہو چکے تھے، جبکہ حالیہ اقدام کی وجہ اس کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ اور تشہیر کے الزام میں جاری کیا گیا غیر حاضری میں نیا عدالتی حکم بنا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ نوجوان پانچ افراد پر مشتمل منشیات فروش نیٹ ورک کا رکن ہے، جس کے باقی تمام افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا، تاہم وہ نینویٰ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا اور بعد میں اچانک لائیو نشریات میں سامنے آیا۔پولیس کے مطابق سیکیورٹی ادارے اس معاملے پر کردستان ریجن کی متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور نوجوان کی صحت بہتر ہونے کے بعد اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں