ٹرمپ ایران پر حملے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، تل ابیب بھی تیار ہے:اسرائیلی میڈیا

امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں غیرمعمولی طور پر متحرک ہوچکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے کسی اقدام پر غور کر رہے ہیں، جیسا کہ گذشتہ دنوں وینزویلا میں کیا گیا، ایران میں بھی ایسا آپریشن کیاجاسکتا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو جمعرات کو ایک اہم سکیورٹی اجلاس منعقد کریں گے جس میں ایران کی صورتحال پر بات ہوگی۔

اسرائیلی فوج تیار

ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ اسرائیلی فوج ایران پر حملے کے دوران اگر امریکہ مدد طلب کرے تو تیار ہے۔ موجودہ اندازے بتاتے ہیں کہ ٹرمپ نے حملے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

امریکی بحری بیڑے کی تعداد بڑھ گئی

مشرقی وسطیٰ میں امریکی بحری جہازوں کی تعداد دس تک پہنچ گئی ہے، جب کہ ایک نیا طیارہ بردار جنگی بیڑا بھی پہنچ گیا، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیار میں بڑی جنگی صلاحیتیں آ گئی ہیں، اگر وہ ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کریں تو ان کے لیے اب حملہ کوئی مشکل نہیں ہوگا۔

اب مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی جہازوں کی تعداد تقریباً اتنی ہے جتنی واشنگٹن نے کیریبین میں تعینات کی تھی، اس سے قبل امریکی خصوصی فوج کی کارروائی کے دوران صدر نیکولاس مادورو کو گرفتار کیا گیا تھا۔

بدھ کو ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی جہازوں کی مجموعی تعداد دس ہے۔ اس میں طیارہ بردار بیڑا ابراہیم لنکن شامل ہے، جس کے ساتھ تین تباہ کن جہاز اور ایف-35 سی لڑاکا طیارے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ خطے میں چھ امریکی جنگی جہاز بھی سرگرم ہیں، جن میں تین ڈسٹرائر جہاز اور تین ساحلی لڑائی کے جہاز شامل ہیں۔

ٹرمپ کی دھمکی

بدھ کو اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشال پر ٹرمپ نے لکھا کہ "ایک بڑا بیڑا ایران کی طرف روانہ ہو رہا ہے۔جیسا وینزویلا میں ہوا، ضرورت پڑی تو یہ بیڑا بھی اپنا مشن تیزی اور عزم کے ساتھ انجام دینے کے لیے تیار ہے"۔

صدر ٹرمپ نے ایران پر زور دیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر معاہدے کے لیے اقدامات تیز کرے اور خبردار کیا کہ "وقت ختم ہو رہا ہے"، ساتھ ہی دھمکی دی کہ اس بار امریکی حملہ تہران پر "بہت زیادہ شدید" ہوگا۔

ایران کی سخت تنبیہ

بدھ کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے کوئی فوجی کارروائی کی تو ایران سخت جواب دے گا، تاہم انہوں نے تہران کے جوہری پروگرام پر نئے معاہدے کی بھی گنجائش ظاہر کی۔

عراقچی نے ’ایکس ‘پر لکھا کہ "ہماری بہادر مسلح افواج تیار ہیں اور ان کے انگلیاں ہتھیار کے ٹریگر پر ہیں، کسی بھی حملے کے جواب میں فوری اور طاقت کے ساتھ کارروائی کریں گی۔"

انہوں نے مزید کہاکہ "ساتھ ہی ایران ہمیشہ ایسے جوہری معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے جو منصفانہ، مساوی اور بغیر کسی دباؤ یا دھمکی کے ہو، تاکہ ایران کے پرامن جوہری حقوق کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی قسم کے جوہری ہتھیار نہ ہوں۔"

طیارہ بردار بیڑا اور اس کے ہمراہ جہاز مشرق وسطیٰ میں اس وقت بھیجے گئے جب ایرانی حکام نے گذشتہ دسمبر کے آخر میں معاشی حالات کی خرابی پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا، جو سنہ 8 اور 9 جنوری کو اسلامی جمہوریہ کے خلاف مظاہروں میں تبدیل ہو گئے۔

ایران کی موجودہ حکومت جو سنہ 1979 میں شاہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد اقتدار میں آئی نے مظاہرین کے خلاف شدید کریک ڈاؤن کیا، جبکہ اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ بیرونی مداخلت غالباً تبدیلی کا سب سے مؤثر ذریعہ ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ نے کئی بار دھمکی دی کہ اگر ایرانی حکام مظاہرین کو قتل کریں گے تو امریکہ فوجی مداخلت کرے گا۔ایرانی عوام سے کہا کہ "مدد آپ کی طرف آ رہی ہے" اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ سرکاری اداروں پر کنٹرول حاصل کریں۔

دو ہفتے قبل امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ ایران نے امریکی صدر کے دباؤ کے نتیجے میں 800 سزائے موت کی کارروائیوں کو مؤخر کر دیا، جس کے باعث ٹرمپ نے حملہ روک دیا۔ لیکن حال ہی میں انہوں نے دوبارہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں