لیبیا نے سیف الاسلام قذافی کے قتل کی تحقیقات شروع کر دیں

وہ ایک نامعلوم "چار رکنی کمانڈو ٹیم" کے ہاتھوں ہلاک ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لیبیا کے پراسیکیوٹرز نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ زنتان شہر میں مقتول حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے قتل کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ فرانزک ماہرین کو شمال مغربی لیبیا میں زنتان روانہ کر دیا گیا جہاں انہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا اور یہ کہ مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

دفتر نے ایک بیان میں کہا، "متأثرہ شخص گولی لگنے سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ تفتیش کار "گواہان اور کسی ایسے شخص سے بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اس واقعے پر روشنی ڈالنے کے قابل ہو۔"

ملک کے میڈیا کے مطابق لیبیا کی صدارتی کونسل نے مختلف سیاسی فریقوں سے تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرنے کا مطالبہ کیا۔

محمد المنفی کی سربراہی میں کونسل نے قذافی کے اہلِ خانہ سے تعزیت بھی کی۔

خاندان کے قریبی ذرائع نے بدھ کے روز العربیہ کو بتایا ہے کہ انہیں لیبیا کے شہر سرت میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

سیف الاسلام کے ایک وکیل مارسیل سیکالڈی نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں ایک نامعلوم "چار رکنی کمانڈو ٹیم" نے ہلاک کر دیا جس نے منگل کو زنتان میں ان کے گھر پر حملہ کیا تھا۔

لیبیا اس افراتفری سے نکلنے کے لیے برسرِ پیکار ہے جو 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت میں معمر قذافی کا تختہ الٹنے کے بعد شروع ہوئی۔

لیبیا طرابلس میں قائم اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت اور خلیفہ حفتر کی حمایت یافتہ مشرقی انتظامیہ کے درمیان منقسم ہے۔

فزّان خطے کی نمائندگی کرنے والی صدارتی کونسل کے نائب صدر موسیٰ الکونی نے ایکس پر کہا: "ہم سیاسی قتل، طاقت کے ذریعے مطالبات حاصل کرنے اور بطور زبان یا ذریعۂ اظہار تشدد سے انکار کرتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں