یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے واشنگٹن کے ساتھ "قابل اطمینان" معاہدے کےلیےتیارہیں :عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق میزائلوں کا معاملہ قابل مذاکرات نہیں ہے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے واشنگٹن کے ساتھ ایک "قابل اطمینان" معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ ایران یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کے اپنے حق پر قائم ہے اور اسے ایران کا ایسا حق قرار دیا جسے جاری رہنا چاہیے۔
ایرانی میزائل پروگرام کے حوالے سے عراقچی نے زور دے کر کہا کہ یہ موضوع "قطعاً ناقابلِ بحث" ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میزائل خالصتاً دفاعی معاملہ ہیں اور انہیں کسی بھی مرحلے پر مذاکرات کی میز پر نہیں لایا جا سکتا۔
ہفتے کے روز ایرانی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں عراقچی نے ذکر کیا کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات ایک "اچھا آغاز" ہے، تاہم تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے ابھی طویل سفر باقی ہے۔
مذاکرات بالواسطہ تھے اور صرف جوہری معاملے تک محدود تھے۔ انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ فریقین نے اس دائرہ کار سے باہر کسی دوسرے معاملے پر بات نہیں کی۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق بات چیت کا تسلسل اختلافات کو حل کرنے کے لیے دونوں فریقوں کے ارادے پر منحصر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مذاکرات پہلا قدم ہیں، لیکن ان کا مطلب فی الوقت کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا نہیں ہے۔
عراقچی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا "واشنگٹن مذاکرات کی میز پر اس وقت واپس آیا ہے جب وہ اس سے قبل فوجی حملوں کا سہارا لے چکا تھا، جو کہ دباؤ کے اختیارات کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے"۔
-
فرانس نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کو "غیر مستحکم" کرنا بند کرے
فرانسیسی وزیر خارجہ نے بیروت سے لبنان میں اسلحہ صرف ریاست کے پاس رکھنے کے منصوبے ...
مشرق وسطی -
"طاقت کے ذریعے امن"... ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران امریکی فوجی طاقت کا مظاہرہ
امریکی فوج کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن نے فوجی سپلائی بحری جہازوں ...
بين الاقوامى -
تسلط کا نظریہ: وزیرِ خارجہ ایران کی امریکہ سے جوہری مذاکرات کے بعد اسرائیل پر تنقید
اسرائیل کو ہتھیاروں کی اجازت جبکہ دوسروں پر ہتھیاروں میں کمی کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ...
مشرق وسطی