اسرائیل : مغربی کنارے پر قبضہ مزید مضبوط کرنے کے اقدامات

یہودی آباد کاروں کے لیے زمین کی خریداری آسان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے اتوار کے روز ایسے کئی اقدامات کی منظوری دی ہے جن کے تحت یہودی آباد کاروں کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے میں زمین کی خریداری کو آسان کر دیا گیا ہے۔ نیز فلسطینیوں پر اسرائیلی قبضے کا تسلط بڑھانے کے لیے بھی کئی اقدامات کی منظوری دی ہے۔ یہ بات اسرائیلی میڈیا نے اتوار کے رپورٹ کی ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارا فلسطین کے ان علاقوں میں شامل ہے جو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا حصہ بننا ہے۔ مگر اسرائیلی فوج اس زیر قبضہ علاقے پر اپنا تسلط گہرا کرتی نظر آرہی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی جو انتہائی محدود اختیارات کے ساتھ مغربی کنارے کے علاقے رام اللہ میں موجود ہے اسرائیلی تسلط کو روکنے میں کامیاب نہیں ہے۔

اسرائیل کے وزیر خزانہ سموٹریچ اور وزیر دفاع کاٹز نے 'نیوز سائٹس' سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقدامات ان پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں جو مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کو زمین خریدنے سے روکتی تھی۔

کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اسرائیلی حکام بعض ایسے مذہبی مقامات کو بھی براہ راست کنٹرول کریں گے جو مقبوضہ مغربی کنارے میں ہیں۔ یہ مذہبی مقامات اس سے قبل فلسطینی اتھارٹی کے زیر اثر علاقوں میں تھے اور اسرائیلی براہ راست کنٹرول کمزور تھا۔

فلسطینی اتھارٹی کے 86 سالہ صدر محمود عباس نے اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے ان فیصلوں کو فلسطینیوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی اقدامات ہیں اور مغربی کنارے کی اسرائیل کے ساتھ انضمام کی طرف پیش رفت ہے۔

اسرائیلی وزیروں نے فوری طور پر محمود عباس کے اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ سیکیورٹی کابینہ کے یہ فیصلے اس وقت سامنے آئے ہیں جب وزیر اعظم نیتن یاہو نے اگلے چند دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں